خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 383

رضی اللہ عنہ جو اہل حدیث میں سے تھے اور ان کے لیڈر تھے ، انہوں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا ذکر سنا۔شاید انہوں نے براہین کا اشتہار پڑھا یا آردیونی اور عیسائیوں کے خلاف کسی اخبار میں آپ کا مضمون دیکھنا تو ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں خود انمیں جا کر دیا آؤں۔چنانچہ وہ قادیان پہنچے مگر ان دنوں حضرت مسیح موعود سلام قادیان میں نہیں تھے بلکہ کہیں باہر تشریف لے گئے تھے۔غالبا یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام چلہ کے لئے ہوشیار پور تشریف لے گئے تھے وہ قادیان سے ہوشیار پور پہنچے مگر وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ آپ سے ملاقات نہیں ہو سکتی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ساتھ والوں کو ہدایت دے دی تھی کہ کسی کو اند یہ نہیں آنے دنیا اور شیخ حامد علی صاحب کو دروازہ پر بٹھایا ہوا تھا کہ وہ نگرانی رکھیں اور کسی کو اندر نہ آنے دیں۔یہ وہاں پہنچے اور انہوں نے منتیں کہیں کہ مجھے ملنے دو مگر انہوں نے نہیں مانا آخر مولوی برہان الدین صاحب نے کہا کہ مجھے صرف چق اُٹھا کر ایک دفعہ دیکھ لینے دو۔اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کروں گا۔لیکن حامد علی صاحب نے یہ بات بھی نہ مانی مگر اللہ تعالے نے چونکہ ان کی خواہش کو پورا کرنا تھا۔میں لئے اتفاق ایسا ہوا کہ ایک ن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو کوئی ضرورت پیش آئی اور آپ نے فرمایا میاں امد علی ! تم فلاب چیز لے آؤ۔وہ اس طرف چلے گئے اور انہیں موقع میسر آگیا۔یہ چھڑی چوری گئے اور انہوں نے حق اٹھا کو حضرت صاحب کو دیکھا۔حضرت مسیح موجود و علیہ السلامہ اس وقت کچھ لکھ رہے تھے اور جلدی موع جلدی کرد ہیں ٹہل رہے تھے۔یہ عام انسان کی نظر میں بہت معمولی بات ہے مگر صاحب عرفان کی نانا میں یہ بڑی بات تھی۔انہوں نے آپ کو دیکھا اور واپس آگئے لوگوں نے آپ سے پوچھا مولوی صاحب آپ نے کیا دیکھا۔انہوں نے کہا۔اس نے بہت دور جانا ہے۔یہ کمرے میں بھی تیز تیز چل رہا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بڑا کام کرنا ہے یہ تو حقیقت یہ ہے کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ہے جس نے جینا ہوتا ہے اس میں جینے کے آثار پائے جاتے ہیں۔اور جس نے مرنا ہوتا ہے اس میں مرنے کے آثار پائے جاتے ہیں۔اگر یہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کو کون نکال سکتا ہے۔فرانسیسی بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کو انڈو چائنا سے کون نکال سکتا ہے کیسی زمانہ میں ہسپانیہ والے بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کو بیانیہ سے کون نکال سکتا ہے مسلمان بھی نہیں سمجھتے تھے کہ ان کو مہندوستان اور چین وغیرہ سے کون نکال سکتا ہے مگر آخر نکل گئے۔یہ موت ہے جو ایک کے بعد دوسری قوم پر آئی اور کسی قوم نے پہلی قوم سے عبرت حاصل نہیں کی۔انفرادی موت سے بچا نہیں جاسکتا۔لیکن قوم کی موت سے بچا جاسکتا ہے اگر وہ زندہ رہنے کی کوشش کرے۔مگر آج تک کسی قوم نے یہ کوشش نہیں کی جو بھی آتا ہے وہ فورا زہر کھانا شروع کر دیا ہے۔اور موت کو قبول کر لیتا ہے ! والنسل در جولائی شلات