خطبات محمود (جلد 2) — Page 372
کے قریب پہنچ گیا تو کفار نے یہ جائزہ لینے کے لئے کہ مسلمانوں کی کتنی تعداد ہے اپنے ایک آدمی کو تحقیقات کے لئے بھجوایا۔اس نے ان اونٹوں سے جو ذبح کئے جارہے تھے مسلمانوں کی تعد دکھا اندازہ لگا لیا اور انہیں جا کر کہا کہ میرے نزدیک مسلمانوں کی تعداد تین سو ساڑھے تین سو کے درمیان ہے۔اس پر انہوں نے سمجھا کہ اتنی تھوڑی تعداد کا تو ہم بڑی آسانی کے ساتھ مت ابلہ کر سکیں گے مگر خوش شخص تحقیقات کے لئے گیا تھا، اس نے کہا کہ واقعہ تو یہی ہے جو میں نے تھیں بتا دیا ہے کہ ان کی تعداد زیادہ نہیں بس تین سو اور ساڑھے تین سو کے درمیان ہے لیکن میری نصیحت نہیں ہے کہ آپ لوگ ان سے لڑنے کا ارادہ نہ کریں۔کیونکہ وہ ہیں تو تھوڑے لیکن سچی بات ہ ہے کہ میں جب ان کو دیکھنے کے لئے گیا تو میں نے اونٹوں اور گھو ڑوں پہ آدمی سوار نہیں دیکھے بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں کہ یعنی ان میں سے شخص اس نیت اور ارادہ سے اپنے گھر سے نکلا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں اور باتیں مرجائیگا مگر وہ اپس نہیں جائیگا۔ایسے لوگوں کا مقابلہ کرنا کوئی آسان بات نہیں۔یہ اخلاص اور خدا نیت کی روح ان میں کس طرح پیدا ہوتی ہے اسی دینی تعلیم کی وجہ سے جو اُن کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔پھر یہ تو دور کی بات ہے تیرہ سو سال گزر گئے اور مسلمان نسلاً بعد نسل کمزور ہوتے چلے گئے۔دین کی محبت ان کے دلوں سے کم ہو گئی ، اسلامی احکام پر عمل جاتا رہا، غفلت اور سستی ان پر چھا گئی مگر اس گئے گزرے زمانہ میں نبی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ان کے دلوں میں ایسی مرکوز نظر آتی ہے کہ اسے دیکھ کر مردہ امیان بھی زندہ ہو جاتا ہے۔میں چھوٹا تھا کہ قادیان میں ایک عورت آئی وہ میراثی خاندان میں سے تھی۔وہ اپنے ساتھ اپنے لڑکے کو بھی لائی ، اسے سل کا مرمن تھا۔اس نے حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کی تعریف سنی تو وہ آپ کے پاس اپنے لڑکے کو علاج کے لئے لے آئی۔مگر جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے ملی تو اس نے کہا کہ اصل میں میں اس لئے نہیں آئی کہ اپنے بیٹے کا علاج کرواؤں بلکہ دراصل میں اس لئے آئی ہوں کہ میرا بیٹا عیسائی ہو گیا ہے۔میں نے سُنا تھا کہ آپ نے عیسائیوں کا بڑا نہ کیا ہے نہیں چاہتی ہوں کہ آپ اس لڑکے کو سمجھائیں تا کہ کسی طرح مسلمان ہو جائے۔اس نے بتایا کہ ہمار ا قبیلہ اپنے اخلاق کے لحاظ سے بہت گھٹیا قسم کا ہے ہمارا پیشہ گانا بجانا ہے۔میں خود بھی شادیوں پر کاتی بجاتی ہوں لیکن میں اس امر کو برداشت نہیں کر سکتی کہ میرا بیٹا عیسائی ہو کر مرے میں آپ کے پاس اسے اس لئے لائی ہوں کہ وہ کسی طرح مسلمان ہو جائے۔میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا مگر وہ نظارہ ایسا تھا جسے یکیں کبھی بھول نہیں سکتا۔میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ سلام کے سامنے بیٹھی ہے اس نے ہاتھ