خطبات محمود (جلد 2) — Page 20
تھا جسے حضرت ابراہیم علیہ سلام نے ایک ایسی جگہ میں ڈالا جہاں بظاہر اس کی ہلاکت تھی لیکن چونکہ خدا تعالے کے لئے ڈالا گیا تھا اس لئے اس قدر بڑھا کہ اس سے کروڑوں کروڑے دانے نکلے۔کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کہیں جارہا تھا اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی ایسا درخت لگا رہا تھا جو بہت دیر میں پھل دینے کے قابل ہو سکتا ہے۔بادشاہ نے اس سے پوچھا تم جو یہ درخت لگا رہے ہو، یہ تھیں کیا فائدہ دے گا۔اس نے کہا، دوسروں کے لگائے ہوئے درختوں سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے ہمارے لگائے ہوئے سے دوسرے فائدہ اٹھائیں گے۔بادشاہ نے کہا۔زہ" اس سے اس کی یہ مراد ہو تی تھی کہ میں خوش ہوا ہوں، انعام دو۔اس پر اس شخص کو چار ہزار انعام دیا گیا۔انعام لینے کے بعد اس نے کہا۔دیکھئے۔اس درخت نے ایک پھل تو مجھے اسی وقت دے دیا ہے۔بادشاہ نے پھر نہ کہا اور اسے دوسری بار انعام دیا گیا پھر اس نے کہا۔اور لوگوں کو تو سال بھر میں ایک دفعہ پھل حاصل ہوتا ہے لیکن میں نے چونکہ بڑی نیک نیتی سے یہ درخت لگایا ہے اس لئے مجھے دو دفعہ پھل ملا ہے۔بادشاہ نے کہا زہ پھر اسے تیسری دفعہ انعام دیا گیا۔اس کے بعد بادشاہ نے کہا۔چلو اب اس سے کچھ نہ پوچھنا چاہیے ، یہ تو نہیں لوٹ لے گائیے یہ تو اس بادشاہ نے کہا لیکن اللہ تعالے کبھی یہ نہیں کہتا اور نہ وہ دینے سے تھکتا ہے۔کیونکہ اس کا خزانہ غیر محدود ہے۔خدا تعالے ایک ہی پہنچ سے بے انتہا دانے پیدا کر دیتا ہے۔اور پھر ایک ہی بیج سے آم ، خربوزے ، انا را انگور وغیرہ جس قدر بھی میبوسد ہیں اور جس قدر بھی نعمتیں ہیں سب پیدا کر دیتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا انعام ہو سکتا ہے اگر زمینداروں کو کوئی ایسا بیج مل جائے جس سے وہ کروڑوں پھیل حاصل کر سکتے ہوں اور پھر ایک ہی بیج سے کئی قسم کے پھل میسر آسکیں۔تو ان کے لئے اس سے بڑھ کرا اور کیا خوشی ہو سکتی ہے وہ تو اپنا سب کچھ بیچ کر اور تمام زمینیں فروخت کر کے صرف ایک دو گز زمین رکھ لیں اور اس بیج کو خرید لیں لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایسا بیج خدا تعالے کے حضور سے ملتا ہے مگر بہت کم لوگ اس کے لینے کی کوشش اور سعی کرتے ہیں۔اور یہ کوئی خیالی اور و سہی بیج نہیں بلکہ حقیقی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پھل اس کی تصدیق کے لئے موجود ہیں۔یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیئے کہ خدا تعالے کے راستہ میں دی ہوئی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔عید منانے والے لوگ اس بات کو سوچیں۔کیا عید یہ نہیں بتاتی کہ خدا کے راستہ میں دی ہوئی کوئی چیز ضائع نہیں جاتی۔پھر کیوں وہ خدا کے راستہ میں قربانی کرنے سے دل چراتے اور کتراتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اپنا مال اس طرح خرچ کریں گے تو ضائع ہو جائیگا