خطبات محمود (جلد 2) — Page 270
۲۷۰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس حج کے لئے آئے اور خدا کے حکم کو پورا کرنے کے لئے کہ تم نمازیں پڑھو اور قربانیاں کرو۔انہوں نے نمازیں پڑھیں اور خدا تعالے کے رستہ میں قربانیاں کہیں تو وہ کو نثر میں کا دخدہ دیا گیا تھا وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوا۔چنانچہ ابو جہل کا بیٹا اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت میں شامل ہو گیا اور ولید کا بیٹا اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جماعت میں شامل ہو گیا انہوں نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد نہیں۔مگر خدا نے کہا کہ میں ان اعتراض کرنے والوں کے بچے محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دوں گا۔چنانچہ جب اس حج کے موقعہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھائی ہوگی اور پھر قربانیاں کی ہوں گی۔تو گو آپ نے اپنے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے ماتحت دشمنوں کو شرمندہ کرنے کے لئے یہ نہیں پوچھا کہ بتاؤ میرا د تسمن ابتر ہے یا ئیں۔ابہتر ہوں۔لیکن جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے پیچھے عکرمہ اور جنالد و غیره نوجوان پھر رہے ہوں گے اس وقت گو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان کچھ گورسول نمی کہ نہیں رہی تھی۔مگر مکہ کی گلیوں کی وہ زمین جس پر ان کے مقدم پڑ رہے تھے وہ ان دشمنوں کو مخاطب کر کے کہہ رہی تھی کہ او ابو جبل او ختیبه او شیبہ کہاں ہے تمہاری وہ اولاد جس پر فخر کرتے ہوئے تم محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمن بنے پھرتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد صلی الشہ علیہ و آلہ وسلم) ابتر ہے۔وہ ابتر ہے یا آج تم ابتر ثابت ہو رہے ہو۔پھر کوثر کے ایک اور معنے بھی ہیں جس کے لحاظ سے اس میں آئندہ کی ایک سے شگوئی کا ذکر کیا گیا تھا اور وہ معنے یہ ہیں کہ ایک بڑا آدمی جو بڑا صدقہ و خیرات کرنے والا ہوں اور آنے والے مسیح کے متعلق بھی لکھا ہے کہ وہ اتنا صدقہ کرے گا، اتنا صدقہ کرے گا کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا یعنی وہ اس قدر روحانی معارف لٹائے گا کہ حد ہو جائے گی۔مگر لوگ اپنی نانی کی وجہ سے ان کو رد کر دیں گے۔وہ سونے اور چاندی کے خزانوں پر تو مر رہے ہوں گئے مگر خدا کے کلام کی مقتدر نہیں کریں گے۔تو اس سورۃ ہیں یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تجھے یہ لوگ ابتر کہتے ہیں۔اور ابتر اسے کہتے ہیں جس کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو۔اور روحانی اولاد میں سے تریہ بیٹا للہ تعالے کا نبی ہوتا ہے کیونکہ نبوت ہی ایک ایسا عمدہ ہے جو عورتوں کو نہیں مل سکتا ہے باقی سارے عہدے عورتوں کو مل سکتے ہیں۔عورت صدیقہ ہو سکتی ہے چنانچہ سب لوگ کہتے ہیں مریم صدیقہ ، عائشہ صدیقہ۔عورت شہداء میں شامل ہو سکتی ہے چنانچہ کسی مسلمان عورتیں شہید ہوتی ہیں۔اور صالح تو مجہتی ہی ہیں اگر کوئی عمدہ عورت کو نہیں مل سکتا تو وہ صرف نبوت ہی ہے