خطبات محمود (جلد 2) — Page 18
مدد اور تائید کریں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں لیکن یہ بات کس قد را فسوسناک ہے کہ وہ لوگ جن کو خدا تعالے صحابہ میں سے قرار دیتا ہے ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے متعلق ان کے سیکر ڈی یہ رسجدہ شکایات کرتے رہتے ہیں۔کہ انہیں جب کبھی کسی دینی کا میم میں حصہ لینے کے لئے کہا جائے تو کہدیتے ہیں کہ ہماری تو اپنی بہت سی ضروریات ہیں یا اور اسی قسم کے عذرات پیش کر دیتے ہیں۔ایک شخص نے مجھے لکھا کہ میری بیوی کہتی ہے کہ تم قادیان میں کچھ نہ بھیجو اور جس قد وہاں بھیجتے ہو اس سے آدھا مجھے دے دیا کہ وہ۔میں اس کے بدلے اپنا مہر تمھیں معاف کر دونگی کیا ئیں اس کی بات مان لوں۔اس شخص کا مجھ سے یہ پوچھنا ہی بتا رہا ہے کہ اس کے دل میں خدا تعالے کے راستہ میں خرچ کرنے کا کس قدر جوش ہے۔اس نے مجھ سے پوچھے بغیر سی کیوں نہ اپنی بیوی کی بات کو یہ کہ کر رد کر دیا کہ میں تیرا حکم مانوں یا خدا کا۔پھر کئی لوگ ہیں جو خدا تعالے کے راستہ میں خرچ کرنا گویا نقصان اٹھانا خیال کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالے کے لئے جو کچھ مرح کیا جاتا ہے وہ بیج کی طرح ہوتا ہے کبھی کوئی زمیندار ایسا نہیں دیکھا گیا کہ جو زمین میں اس خیال سے بیج نہ ہونے کہ اُسے بیج کے صنائع پہلے جانے کا ڈر ہے بلکہ وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ جب میں کھیت میں دانے ڈالوں گا تو وہ بہت زیادہ بڑھیں گے۔اسی طرح اللہ تعالے کے لئے جو خرچ کرتا ہے وہ بھی بیج کی طرح ڈالتا ہے۔اور جس طرح کھیت میں ڈالا ہوا ایک دانہ سینکڑوں دانے پیدا کر دنیا ہے اسی طرح خدا کے راستہ میں خرچ کرنے پر بہت کچھ ملتا ہے اگر کوئی خدا کے لئے خرچ نہیں کرتا تو اس کے لئے ہی کہہ سکتے ہیں کہ اسے اس بات پر المیان نہیں کہ خدا کسی سے کچھ لے کر اسے ضائع نہیں ہونے دیتا۔کیونکہ اگر اسے یہ ایمان حاصل ہو تو ضرور خدا کے لئے اسی یقین اور ایمان سے خرچ کرے جس کے ساتھ زمیندار کھیت میں دانہ ڈالتا ہے اور خوشی خوشی ڈالتا ہے کہ بہت زیادہ دالنے حاصل ہوں گے کوئی زمیندار مصیبت اور تکلیف سمجھ کر بیج نہیں ڈالتا بلکہ خوشی خوشی ایسا کرتا ہے لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دین کے راستہ میں خرچ کرنے والے اول تو اس خیال سے خرچ ہی نہیں کرتے کہ ہمارا مال خرچ ہو جائے گا اور جو خرچ کرتے ہیں وہ اس یقین اور ایمان کے ساتھ خرچ کرتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ دیا دہ صنائع ہو گیا۔اس سے ہمیں کچھ حاصل نہ ہو گا حالانکہ خدا تعا لئے کہتا ہے کہ جو میرے راستے میں خرچ کرتا ہے اسے سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہم دیتے ہیں کہ زمین میں بویا ہوا دانہ اس قدر دانے نہیں اُگا سکتا لیکن خدا تعالے تو کہتا ہے کہ میں سات سو نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ دیتا ہوں اور زیادہ کی کوئی حد بندی نہیں۔اس کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال کو دیکھ لو کہ کس طرح خدا کے لئے ایک اند