خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 249

۲۴۹ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہی دیکھ لو۔انہوں نے جب اپنے بیٹے کی بات سنی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح فورا یہ جواب دیا کہ اگر میری نظر تھے پر پڑ جاتی تو میں تجھے ضرور مار ڈالتا۔یہ تیری خوش قسمتی تھی کہ تو بچ گیا۔ان کا بیٹا اس وقت کا فر تھا اور اس کی نگاہ میں اپنے باپ کی بڑی قدر تھی۔چنانچہ باوجود دینی مخالفت کے اس نے نہ چاہا کہ اپنے باپ کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنے، مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو ماننے والے تھے ان کے اندر خدا تعالے نے وہ ایمان پیدا کر دیا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں کو اپنے ہاتھ سے قربان کر دینے کے لئے تیار ہو جاتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام ہی ہماری ماں ہے۔اسلام ہی ہمارا باپ ہے اور اسلام کی ہمارا سب کچھ ہے۔بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو صرف بیٹے کی قربانی اصل قربانی نہیں کیونکہ بسا اوقات لوگ ماں باپ کے لئے اپنے بیٹوں کو قربان کر دیتے ہیں۔بے شک اولاد کی محبت کا طبعی جذبہ ہر انسان کے دل میں موجود ہوتا ہے۔مگر بعض لوگ ان طبیعی جذبات سے باں ہو کر اخلاقی زندگی بسر کرنے لگ جاتے ہیں اور اخلاقی دنیا میں ماں باپ کا درجہ بڑا ہوتا ہے۔طبعی اور حیوانی دنیا میں بے شک بیٹے کا درجہ بڑا ہوتا ہے لیکن اخلاقی دنیا میں ماں باپ کا درجہ بڑا ہوتا ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع نے اللہ تعالے کے دین کی خاطر ماں باپ کی ایسے ایسے رنگ میں قربانی کی ہے کہ انسان ان واقعات کو پڑھ کر بغیر اس کے کہ اس کے جذبات قابو سے نکل جائیں نہیں رہ سکتا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ہی واقعہ ہے ایک نوجوان جو بارہ تیرہ سال کا تھا اسلام میں داخل ہوا۔اس کی ماں نے اسے تکلیفیں دیں، برتن الگ کر دیئے، کھانا الگ کر دیا اور گھر کے افراد سے کہہ دیا کہ کوئی اسے چھوٹے نہیں اور اس کی چیزوں کو ہاتھ تک نہ لگائے۔اس کے علاوہ اس پر سختی بھی کی جاتی اور اسے مارا پیٹا جاتا۔اور سالہا سال ہی حالت رہی یہاں تک کہ ہجرت حبشہ کا زمانہ آ گیا اور وہ مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ چلا گیا۔وہاں ایک لمبا عرصہ رہنے کے بعد وہ پھر مکہ میں واپس آیا اور کئی سال کے بعد وہ اپنے ماں باپ کے گھر گیا۔اس نے سمجھا کہ اب ان کا غصہ دور ہو چکا ہوگا اور ماں کی مامتا اور باپ کی محبت جوش میں آئی ہوئی ہوگی۔آجکل سفر کی سہوت میں نہیں اور ریل گاڑیوں کی آمد و رفت اور ڈاک کی وجہ سے بعد مسافت کا زیادہ احسا کس نہیں ہوتا۔مگر آج بھی جن کے بچے لاہور یا دہلی میں عید منا رہے ہیں ان کی ماؤں کے دلوں میں بار بار یہ خیال آتا ہو گا کہ نہ معلوم ہمارا بچہ کس حال میں ہے۔لیکن وہ زمانہ ایسا تھا کہ جب کوئی دور چلا جاتا تو سالہا سال تک اس کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ایسی صورت میں ماں باپ کی جو قلبی کیفیات ہوتی ہوں گی ان کا بآسانی اندازہ