خطبات محمود (جلد 2) — Page 240
وام عالم ہمارے کمرہ میں داخل ہو گیا۔ہم انٹر میں تھے جب اس نے ٹکٹ دیکھے تو اس اخلاقی واعظ کے پاس تھرڈ کلاس کا ٹکٹ نکلا۔اور جب اس نے پوچھا کہ آپ کے پاس ٹکٹ تو تھرڈ کا ہے اور میٹھے انٹر میں ہیں تو معنا اس کا چہرہ مجسم سادگی بن گیا۔اور یوں معلوم ہونے لگا کہ ساری عمر اسکو بصورت میں رکھا گیا ہے اور آج پہلی دفعہ اسے سورج نظر آیا ہے عجیب سادہ صورت بنا کر کہنے لگا بابو جی تھرڈ کیا ہوتا ہے اور انٹر کیا ہوتا ہے۔بابوجی دھو کہ میں آگیا۔اور اس نے سمجھا کہ شاید پہلی دفعہ اسے سفر کا موقعہ ملا ہے اور کہنے لگا۔اس ڈیوڑھا کا کرایہ ذرا زیادہ ہوتا ہے آپ تھرڈ میں چلے جاتیں مگر شاید اس نے خیال کیا کہ میں نے سادگی کا ڈرامہ ابھی پوری طرح نہیں دکھایا۔اور چہرہ پر کمزوری اور اضمحلال دکھا کر اس سے مخاطب ہوا۔اور کہنے لگا کہ یہ ذرا ٹرنک اور بستر تو اٹھا کرنے چلو اور مجھے بتاؤ کہ وہ تھرڈ کیا چیز ہے۔تب تو اس بابو بے چارے کی حالت بھی رحم هستیم بن گئی وہ باہر نکلا اور خشکی کو لایا۔اس بوڑھے کا ہاتھ اسے پکڑایا اور کہا کہ بابا جی کو آرام سے تھرڈ کے کمرہ میں بٹھا دو۔اُدھر وہ بوڑھا باہر نکلا ، ادھر ہمارے نانا جان مرحوم حجو اس وقت ہم سفر تھے اور اصل میں پہلے وہی اخلاقی وعظ کر رہے تھے بڑھے نے اپنی ہوشیاری کی وجہ سے ایسا سماں باندھ دیا تھا کہ پچھلے نصف گھنٹہ میں ان کو ایک فقرہ کہنے کی بھی فرصت نہ مل سنگی تھی۔ان کے لئے خدا تعالے نے ایک دروازہ کھول دیا۔وہ سارے کمرہ پر برس پر ہے اور کہنے لگے کہ دیکھو دنیا کی جو حالت میں بیان کرتا تھا اسے اس نے ثابت کر دیا۔پہلے کس طرح وعظ کر رہا تھا اور دنیا کا بڑا عقلمند اپنے آپ کو ظاہر کرتا تھا لیکن بابو کے آنے پر مجسم سادگی بن گیا۔یہی حالت منافق اور بد عمل لوگوں کی ہوتی ہے۔جب تک ان پر گرفت نہ ہو وہ بھیڑ یئے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے رسول کی بھیڑوں کو ایک ایک کر کے اٹھا لے جانا چاہتے ہیں۔لیکن جب پکڑے جاتے ہیں تو تین چار یوم کا لیلہ بن جاتے ہیں۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سیکیسی اور ناواقفیت اور سادگی اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ ابھی ضرورت ہے کہ کچھ عرصہ تک ان کا منہ کھول کر ٹونٹیوں سے دودھ ڈالا جائے۔اور نادان اور سادہ لوگ ان کے اس مظاہرہ سے جو وہ پبلک میں دکھاتے ہیں، دھو کے میں آجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسا سکین آدمی اول تو شرارت کر ہی نہیں سکتا اور اگر اس نے کی ہوگی تو محض سادگی کی وجہ سے کی ہو گی۔وہ اس واقعہ کو بھول جاتے ہیں جو کہانیوں میں بچپن میں ہم سُنا کہ تھے تھے کہ کسی شخص کا کوئی نوکر تھا وہ اس تلاش میں تھا کہ کسی طرح مجھے وہ جگہ معلوم ہو جائے جہاں میرے آقا او میری سیدہ نے رو پیدا اور زیور دفن کر رکھا ہے کیونکہ پرانے زمانہ میں لوگ ان چیزوں کو دفن کیا کرتے تھے۔اس نے بہت کوشش کی مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ان کا ایک تین چار سال کا لڑکا