خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 236

ہمارے دادا کو یہ عورت نصیب ہوئی تھی اور چونکہ وہ خوش ہوا تھا اس لئے ہم بھی خوشی مناتے ہیں یا ہم اس دن اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے کچھ بھائی جو دور دراز کا سفر کر کے خدا تعالے کے گھر کے پاس اپنے ایمان اور اخلاص کا تحفہ پیش کرنے کے لئے گئے تھے وہ اس پیش کش میں کامیاب ہو گئے اور حج مبرور ادا کر کے انہوں نے خدا تعالے کے گھر میں عزت حاصل کی۔پس چونکہ ہمارے بھائیوں کو خوشی پہنچی اس لئے ہم بھی خوش ہیں۔پس ہماری یہ خوششی درشہ کی خوشی ہوتی ہے اور ان دونوں عیدوں میں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کسی قوم کی مکمل خوشی اسی میں ہے کہ اسے دونوں خوشیاں پہنچیں۔ایک خوشی تو یہ کہ اس کو ذاتی قربانی کرنے کی توفیق ہے اور دوسری خوشی یہ کہ اس کے آباد کو بھی خدا تعالے کی راہ میں مستربانی کرنے کی توفیق خطا ہو۔جب کسی قوم کو یہ دونوں خوشیاں نصیب ہو جائیں تو اس کی خوشی مکمل ہو جاتی ہے۔کیونکہ اگر کوئی شخص یہ دیکھتا ہے کہ میرے ماں باپ تو معزز و مکرم تھے لیکن میں ذلیل ہوں تو اس کا دل رنج سے بھر جاتا ہے اور وہ خوش نہیں رہ سکتا۔تاریخوں میں ایک واقعہ آیا ہے کہ ایک امیرت فرایک دن حمام میں نہانے کے لئے گیا۔اور وہاں اس نے اپنا جسم ملوانے کے لئے ایک خادم کو بلوانے کا حکم دیا۔حمام والے نے ایک مضبوط نوجوان اپنے نوکروں میں سے اس کا جسم ملنے کے لئے بھیجوا دیا۔جب اس نے تمہ نیند وغیرہ باندھ لیا اور اپنے کپڑے اتار کر حمام میں بیٹھ گیا اور خوشبو دار پانی اپنے جسم پر ڈالا اور خوشبودار مسالے خادم نے اس کے جسم پر ملنے شروع کئے تو اس وقت کی کیفیت اسے ایسی لطیف معلوم ہوئی کہ اس نے اپنے نفس میں موسیقی کی طرف رغبت محسوس کی اور کچھ گنگنا گنگنا کر شعر پڑھنے لگا۔جب وہ شعر پڑھ رہا تھا تو اچانک اس ملازم کی حالت متغیر ہو گئی اور اس کی چیخ نکل گئی اور وہ بہیوش ہو کر زمین پر گر گیا۔اس غسل کر نیو الے نے سمجھا کہ شاید اس کو مرگی کا دورہ ہوا ہے اور اس نے حمام کے افسر کو بلایا۔اور اس کے پاس شکایت کی کہ تم نے میرے جسم کو ملنے کے لئے ایک مجنون اور بیمار کو بھیج دیا۔اس نے معذرت کی اور کہا کہ آجتک اس نوجوان کی ہمیاری کا حال مجھے معلوم نہیں ہوا، یہ تو بالکل تندرست تھا۔ہر حال وہ اسے ہوش میں لاتے اور اس سے پوچھا کہ یہ کیا واقعہ ہے ، آجنگ تو تم پر کبھی ایسا دورہ نہیں ہوا تھا۔اس نوجوان نے نہایت گھبرائی ہوئی حالت میں اس شاعر سے دریافت کیا کہ آپ نے جو یہ شعر پڑھے تھے یہ آپ نے کس سے سنے ہیں اس نے کہا میرے اپنے ہیں اور مجھے نہایت ہی محبوب ہیں۔کیونکہ میں نہایت غریب ہوتا تھا اور نان نکنید تک کا بھی محتاج تھا۔اتفاقاً مجھے معلوم ہوا کہ فضل برکی تو ہارون الرشید کے وزراء میں سے ایک وزیر تھا اور یا یہ مسکی وزیر اعظم کا بیٹا تھا اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور شاعروں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ شعر کس کہ لائیں۔پھر جو مقابلہ میں اول آئے گا اسے انعام دیا جائے گا