خطبات محمود (جلد 2) — Page 221
٢٢١ لگایا تھا اور جن کا نام صفا اور مروہ تھا ان میں سے ایک پہاڑی پر دوڑ کر چڑھ گئیں کہ شاید کوئی دور سے قافلہ نظر آئے تو وہ اس سے پانی مانگ سکیں مگر انہیں کوئی قافلہ نظر نہ آیا۔پھر وہ اس پہاڑی سے اتر کر دوسری پہاڑی پر دوڑتی ہوئی چڑھیں کہ شاید دوسری طرف سے کوئی قافلہ جاتا ہوا نظر آئے۔مگر اس پہاڑی سے بھی انہیں کوئی قافلہ دکھائی نہ دیا۔اور چونکہ وہ صفا سے جب نیچے اترتی تھیں تو انہیں اپنا بچہ نظر نہیں آتا تھا ، اس لئے دوڑ کر مر وہ پر چڑھتیں تا کہ بچہ ان کی نظروں کے سامنے رہے ایسا نہ ہو کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے۔پھر جب مردہ سے اترتیں تو اسی طرح دوڑ کر صفا پر چڑھ جاتیں تا دیکھیں کہ کوئی پانی والا تو وہاں نہیں۔اس طرح انہوں نے صفا اور مروہ پر سات چکر لگائے مگر کہیں پانی میسر نہ آیا۔تب جب کہ ان کی تکلیف اپنی انتہاء کو پہنچ گئی اللہ تعالے نے اپنے ایک فرشتہ سے کہا کہ جا اور ہاجرہ کو کہ کہ تیرے لئے پانی خدا تعالے نے پیدا کر دیا ہے۔چنانچہ ایک فرشتہ آیا اور اس نے آواز دی۔حضرت ہاجرہ نے اپنے جذبات کے دور میں پہلی دفعہ اس آواز کو پوری طرح نہیں سمجھا۔اور انہوں نے کہا۔اے خدا کے بندے تیرے پاس کچھ پانی ہے۔تب اس فرشتہ نے دوبارہ کہا کہ اسے ہاجرہ باجبار اور دیکھ کہ منذ التالے نے تیسے بیٹے کے لئے چشمہ پھوڑ دیا ہے۔چنانچہ وہ واپس آئیں اور انہوں نے دیکھا کہ مقتر اسمعیل جہاں شدت پیاس سے تڑپ رہے تھے وہاں پانی کا ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے۔یہ چشمہ در اصل عرصہ ہے وہاں تھا مگر اس کا دہانہ مٹی سے بند ہو چکا تھا۔حضرت اسمعیل علیہ السلام نے جب پیاس کی شرکت میں ایڑیاں رگڑیں۔تو اس کے دہانہ سے مٹی ہٹ گئی اور چشمہ پھوٹ پڑا۔حضرت پانزه علیها السلام نے جلدی جلدی ہاتھوں سے اس کے دہانہ پر سے مٹی اُٹھائی اور اس کا مونہہ کھول کر چیکوؤں سے پانی نکالا۔اور حضرت آجیل علیہ السلام کو پلایا۔گویا وہی ایڈ یہاں جو حضرت اسمعیل علیہ السلام کی موت کے قرب پر دلالت کر رہی تھیں اس کی حیات کا باعث ہو گئیں۔اور انہیں سے وہ چشمہ پھوٹا جس نے ان کو زندہ کر دیا۔جب وہاں چشمہ پھوٹ پڑا تو قافلے والوں نے وہاں آنا شروع کر دیا۔اور انہوں نے حضرت ہاجرہ سے وہاں رہنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ہم ٹیکس گزار ہو جائیں گے چنانچہ حضرت ہاجرہ نے انہیں اجازت دیدی اور وہ وہاں اپنے لگ گئے۔اس طرح رفتہ رفتہ نکہ ایک بہت بڑا شہر بن گیا۔لیکن ہاجرہ کی عمر خواہ کتنی بھی ملی ہوئی ہو اس عرصہ میں نہیں جب بھی وہ وقت یاد آجاتا ہو گا جب ان کا بچہ شدت پیاس سے تڑپ رہا تھا اور وہ پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مروہ کے پیکر کاٹ رہی تھیں تو ان کا دل دھڑکنے لگ جھاتا ہوگا۔آج اسی کی یاد میں ز آج سے میری مراد خاص آج کا دن نہیں بلکہ آجکل کے ایام مراد ہیں)