خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 210

۲۱۰ دونوں نمازیں ادا کرنے کی توفیق ہو تو دوسرے کو نہیں چاہیئے کہ ان پر اعتراض کرے اور کہے کہ انہوں نے رخصت سے فائدہ نہ اٹھایا ہے پس اللہ تعالے کے فضل سے آج ہمارے لئے دو عیدیں جمع ہیں جن میں سے پہلی عید تو ہم پڑھ چکے ہیں اور اس کا نتمتہ خطبہ کے ذریعہ ادا کر رہے ہیں۔یہ عید ایک ایسی قربانی کی یاد گار ہے جس نے ہم کو دو نہایت اعلیٰ درجہ کے سبق دیتے ہیں۔اور بھی سبق دیئے ہیں مگر اس وقت میرے مضمون سے چونکہ ان دو سبقوں کا ہی تعلق ہے اس لئے مہر نے مضمون کے لحاظ سے اس عید نے ہمیں دو اعلیٰ درجہ کے سبق دیتے ہیں۔ایک تو یہ سبق دیا ہے کہ اللہ تعالے کے راستہ میں بندہ کو قربانی کرنے میں کبھی جنسل سے کام نہیں لینا چاہیئے۔اور دوسرا سبق یہ دیا ہے کہ خدا تعالے کے راستہ میں سچی قربانی کرنے والا کبھی ضائع نہیں ہوتا۔اللہ تعالے کے راستہ میں قربانی پیش کرنے کی جرات اور اس میں فراخ حوصلگی کی مثال تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے کہ بڑھاپے کی عمر میں جبکہ آپ تو بے سال کے ہو چکے تھے آپ کو ایک بچہ ملتا ہے۔یہ نہیں کہ آپ کو اس بچہ کی خواہش نہ تھی اس لئے کہ آپ نے کئی شادیاں محض نرینہ اولاد کے حصول کے لئے کہیں۔چنانچہ دو تو شھر عورتوں سے شادی کی ہے جن میں سے ایک حضرت سارہ اور ایک حضرت ہاجرہ تھیں۔ان کے علاوہ بعض لونڈیوں سے بھی آپ نے شادی کی۔اور اس نیت اور اس ارادہ سے کی کہ کوئی بچہ پیدا ہو۔میں نے حضرت ہاجرہ کے متعلق کہا ہے کہ وہ گر تھیں اور یہ عیسوی تاریخ اور بائیبل کے خلاف ہے۔عیسائی تاریخ انہیں آزاد قرار نہیں دیتی بلکہ کہتی ہے کہ وہ لونڈی تھیں یہ لیکن خود بائبل کے ہی بعض واقعات اسے غلط قرار دے رہے ہیں۔کیونکہ بائبل نے حضرت اسمعیل علیہ السلام اور حضرت اسحق علیہ السلام کی اولاد کا جو مقام تجویز کیا ہے۔اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری اولاد کو شامل نہیں کیا۔اگر حضرت ہاجرہ لونڈی ہوتیں تو با شبل ان کی اولاد سے وہی سلوک کیوں نہ کرتی جو اس نے دوسری بیویوں کی اولاد سے کیا۔در حقیقت عیسائی مورخین کو حضرت ہاجرہ سے بغض تھا اور اس شخص کی وجہ سے انہوں نے آپ کو لونڈی قرار دے دیا۔اور چونکہ جھوٹے الزام ہمیشہ الزام لگانے والوں پر لوٹ پڑا کرتے ہیں اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے تو حضرت ہاجرہ پر یہ الزام لگایا کہ وہ مصر کی لونڈی تھیں اور خدا تعالے نے اس کی پاداش میں اس قوم کوکئی سو سال تک حضرت ہاجرہ کی قوم کا غلام بنا دیا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت ان کی حالت بالکل غلاموں کی طرح تھی اور وہ حضرت ہاجرہ کی قوم کے ماتحت تھے۔تو حضرت ہاجرہ اور حضرت سارہ دو بیویاں آزادوں میں سے تھیں اور حضرت ہاجرہ تو شہزادی تھیں۔چنانچہ مصر کے شاہی خاندان کے افراد نے اس وجہ سے کہ انہوں نے حضرت