خطبات محمود (جلد 2) — Page 209
7-9 پنا نچہ انہوں نے لوگوں پر زور دنیا شروع کر دیا کہ گوہ کھانی چاہیئے۔اور انہوں نے اس پر اتنا زبیر دیا کہ اچھی خاصی تبلیغ ہو گئی۔مجھے بھی ایک دفعہ انہوں نے پندرہ بیس منٹ تک خوب تبلید کی اور پھر ہماری نانی جان صاحبہ مرحومہ سے گھر میں گوہ بچوائی تو مجھے بھی کہا کہ کھاؤ۔میں نے اس وقت ان کے اصرار پر ارادہ کیا کہ گوہ کا گوشت کھا کر دیکھیواں، مگر اسے دیکھ کر مجھے سخت کر اہت آئی اور میں واپس لوٹ آیا۔ان دنوں کچھ دن تک وہ حدیث کی کتاب نانا صاحب مرحوم اپنے ساتھ رکھتے تھے اور جو بھی ملتا اسے دکھاتے اور پھر پوچھتے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر یہ کھائی گئی ہے تو تم کیوں نہیں کھاتے۔ایک دفعہ انہوں نے مجھے وہ حدیث کی کتاب دی اور حضرت خلیفہ اسح الاول رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور کہا کہ جب اس حدیث سے ثابت ہے کہ گوہ کا گوشت کھانا جائز ہے۔تو آپ کو اس کے کھانے پر کوئی اعتراض تو نہیں یہ وہی حدیث تھی جس کے ایک حصہ میں یہ آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ کو کے سامنے جب پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا ہمارے ملک میں چونکہ اس کے کھانے کا روا نہیں اس لئے میں نہیں کھاتا اگر اور کوئی کھانا چاہے تو بے شک کھا لے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جب میں یہ حدیث لے کر گیا اور میر صاحب کی بات کا آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا۔لیکن اس حصے پر عمل کرتا ہوں میر صاحب دوسرے حصہ پر عمل کو لیں یہیں میں نے بھی انہیں جواب دیا کہ ہمیں اس حصہ پر عمل کرتا ہوں جس میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ہم جمعہ ہی پڑھیں گے اور اگر کوئی دوسرے حصہ پر عمل کرنا چاہتا ہے۔تو وہ اس حصہ پر عمل کرلے۔مگر وہ مجھے کیوں مجبور کرنا چاہتا ہے۔کہ میں بھی اس دوسرے حصہ پر عمل کروں۔تو آن دو عیدیں جمع ہیں۔ہمارے ملک کی ایک پنجابی مثل ہے کہ دو دو تے چوپڑیاں چونکہ خدا تعالے کی دین کا بندہ قیاس بھی نہیں کر سکتا اور وہ اپنے بخل کو دوسرے کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔اس لئے ہمارے ملک میں یہ مثل ہے کہ دو دو تے چوپڑیاں یعنی ایک تو دو دو روٹیوں کی خواہش رکھنا اور پھر یہ بھی کہنا کہ ان پر گھی بھی لگا ہوا ہو۔حالانکہ گھی والی تو ایک روٹی ہی کافی ہوا کرتی ہے۔مگر دیکھو ہمارا رب کیسا سخی ہے کہ اس نے ہمیں دور ہو دیں اور پھر پڑی ہوئی دیں۔یعنی جمعہ بھی آیا اور عیدالاضحیہ بھی آئی اور اس طرح دو عیدیں خدا تعالے نے ہمارے لئے جمع کر دیں۔اب جس کو دو دو چپڑی ہوئی چپاتیاں ملیں وہ ایک کو رد کیوں گرے گا، وہ تو دونوں لے گا سوائے اس کے کہ اس کوئی خاص مجبوری پیشیش آجائے۔اور اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی ہے۔کہ اگر کوئی مجبور ہو کر ظہر کی نماز پڑھ لے جمعہ نہ پڑھے تو دوسرے کو نہیں چاہیئے کہ اس پر طعن کرے اور اگر بعض لوگ ایسے ہوں جند میں