خطبات محمود (جلد 2) — Page 196
194 ۲۵ د فرموده ۲۲ فروری ار انتقام عیدگاه قاریان عید الاضحیہ ہمیں انیسی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے جو انسانی احساسات کے لحاظ سے نازک ترین جذبات کی قربانیاں کہلاتی ہیں۔دنیا میں انسان ہر روز ہی قربانیاں کرتا ہے۔اور قربانیاں کرنے پر مجبور ہوتا ہے اس میں نیک اور بد کی کوئی تمیز نہیں ہے۔محنتی اور آوارہ گرد میں کوئی تمیز نہیں ہے۔ایک با اصول اور عیاش انسان کی بھی کوئی تمیز نہیں ہے۔صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ کوئی اچھی چیز کے لئے قربانی کرتا ہے اور کوئی بری چیز کے لئے قربانی کرتا ہے۔ان تمام قربانیوں پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بھاری قربانی انسان کے لئے اپنی اولاد کی تربانی ہوتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض انسان جن کی فطر تمیں مرجاتی ہیں اور جو انسانیت سے خارج ہو جاتے ہیں ان میں ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے عیش اور اپنی لذت کی خاطر قربان کر دیتے ہیں لیکن یہ استثنائی وجود ہوتے ہیں اور در حقیقت اپنی مردہ فطرت کے لحاظ سے انسانوں میں شمار ہونے کے قابل نہیں ہوتے۔فطرت انسانی کا اصلی جو ہر انسانوں کی اکثریت سے معلوم کیا جاسکتا ہے اور اگریم اپنے گردوپیش کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ انسان کی دنیوی زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ننانوے فیصدی آدمی بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ اپنی عمریس محض اپنی اولاد کی بہتری کی خاطر قربان کر رہے ہوتے ہیں۔یہ ایک عجیب قسم کا نظارہ دنیا میں نظر آتا ہے کہ دادا بیٹے کے لئے اور بیٹا پوتے کے لئے اور دادی بیٹی کے لئے اور بیٹی نواسی کے لئے اپنی جان قربان کر رہے ہیں۔اور یہ اوپر سے نیچے اترنے والی قربانی نہ زمانے کی قید سے واقف ہے نہ مذہب کی قید سے واقعت ہے نہ ملک کی قید سے واقف ہے ، نہ علم کی قید سے واقف ہے ، نہ زبان کی قید سے واقف ہے ، نہ رنگوں کی قید سے واقف ہے۔ایک مسلمان اور ایک عیسائی اور ایک ہندو ، ایک کان اور ایک گورا اور ایک زرد رنگ کا آدمی ، ایک مرد اور ایک عورت ، ایک ہندوستانی اور ایک انگریز اور ایک افریقی ، ایک جاہل اور ایک پڑھا لکھا انسان ، ایک سیدھا سادھا اور ایک فلا سفر اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اور اپنے کاموں کی تمام شاخوں میں بس ایک ہی دین میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اپنے آپ کو قربان کر دیں اور اس نتر بانی کے نتیجہ میں کچھ