خطبات محمود (جلد 2) — Page 182
۱۸۲ دنیا کو ہمارا غلامہ بنا دیا ہے مگر یہ بعد والے دیکھیں گے۔وہ زمانہ آنے والا ہے جب وہ لوگ تختوں یہ میٹھے ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام آتے ہی مؤدب کھڑے ہو جایا کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلاموں کے آگے آجکل کے بڑے بڑے لوگوں کی اولادیں جو تیاں رکھنا باعث فخر سمجھیں گی۔مگر ہم نے کیا لیا سوائے گالیوں اور پتھروں کے۔ہماری نہ ندگیاں اسی میں گزریں گی اور بادشاہتیں انہیں ملیں گی جو ان گالیوں کی لذت سے آشنا نہ ہوں گے ہمارے لئے مقدر بھی یہی ہے اور ہم چاہتے بھی یہی ہیں۔ہاں اللہ تعالے کی طرف سے ہمیں خود بخود کچھ مل جائے تو اور بات ہے۔مگر ہم چاہتے ہیں ہیں کہ ہماری تمرین مخالفتیں اٹھانے اور گالیاں کھانے میں ہی گزریں یہ کیونکہ ان میں جو لذت اور سرور ہے وہ بادشاہتوں میں نہیں۔یہی وہ انعام ہے جو انبیاء اور رسولوں کو ملا اور یہی ہم اپنے لئے چاہتے ہیں۔یہی وہ عید ہے جو آج منائی جارہی ہے۔بقر عید نبیوں کے زمانہ کی عید ہوا کرتی ہے اور چھوٹی عید نلیوں کے بعد کے زمانہ کی چھوٹی عید کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب بھوک کا زمانہ گزر گیا۔لیکن اس عید کا مطلب یہ ہے کہ آؤ قربانی کریں۔اس لئے یہ عید انبیاء اور ان کے خلفاء کے زمانہ کی عید ہے اور چھوٹی عید انبیاء کے بعد کے زمانہ کی ہوتی ہے۔بڑی عید یہی ہے جو قربانیوں اور تکالیف کی ہے، وہ پھوٹی ہے جس میں بادشاہتیں اور حکومت میں ملتی ہیں۔خدا کے انعام نام میں قربانی کا سہار لئے تخت حکومت سولی کا تختہ ہے۔وہی ہماری حکومت ہے اور وہ تمام تکالیف جو ہمیں دی جاتی ہیں انہیں میں ہمارے لئے فخر ہے۔ہم اگر اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے کرتے ہیں۔اگر ہم مخالفوں سے کہتے ہیں کہ گالیاں مت دو تو اس لئے کہ ان کے اخلاق نہ بگڑ جائیں۔اور اگر حکومت کو متوجہ کرتے ہیں تو اس لئے کہ حکومت خدا کی نظروں میں مغضوب ہو کر تباہ نہ ہو جائے ورنہ ہم تو لذت اسی میں محسوس کرتے ہیں اور مومن کی عید اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ جن لوگوں نے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں جائیں دیں انہوں نے عید نہیں دیکھی۔آج وہ سامنے نہیں ہیں اور نہ تم دیکھتے کہ ان کے چہروں پر ایسے آثار ہوتے تھے جو ظاہری عید منانے والوں کے چہروں پر ہو ہی نہیں سکتے۔جو جان دے دیتا تھا وہ میں سمجھتا تھا کہ میری عید آگئی۔اسی لئے انہیں شہید کیا گیا ہے کہ وہ عید کا چاند دیکھتے ہوئے مرے۔ہر مومن جو دین کے لئے خدا ہوتا ہے، وہ عید دکھتا ہے یہی عید اضحیہ ہوتی ہے یہی انبیاء کے زمانہ کا نشان ہے اور اسی کے لئے ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔پس آؤ ہم اللہ تعالے کا شکر ادا کریں اور اس کے نام کو عہد کریں کہ اس نے تمہیں