خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 150

10۔بھی تھیں اور بیرونی بھی۔اندرونی یہ کہ آپ کے رشتہ دار تک آپکے مخالف تھے اور بیرونی یہ کہ اس زمانہ کی سیاست اور حکومت آپ کی مخالف تھی۔سوائے ان کے ایک رشتہ دار کے جو ان کا خالہ زاد بھائی تھا یا بعض کہتے ہیں کہ وہ بھتیجا تھا اور کوئی ان پر ایمان نہ لایا تھا۔اور اس قد تکلیفیں دی گئیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح انہیں بھی ہجرت کرنی پڑی مگر با وجود اس کے ان کے ایمان کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے کبھی یہ خیال نہ کیا کہ دنیا ہدایت کو قبول نہیں کرے گی بلکہ ان کے بھائی حضرت لوط جو دوسری بستی میں تھے جب ان کے منکروں پر عذاب آیا تو بائیبل میں لکھا ہے حضرت ابراہیم نے دُعا کرنی شروع کی کہ خدایا ! کیا تو اس قوم کو تباہ کر دے گا جبکہ تیرے نیک بندے بھی اس میں رہتے ہیں۔اللہ تعالے نے فرمایا نہیں مگر وہ بستی تو گناہوں سے پُر ہو گئی۔تب حضرت ابراہیمؑ نے کہا۔بے شک مگر اسے خدا ! اگر اس میں سو مومن ہوں گے تو کیا تو ان پر نظر نہیں کرے گا اور کیا ان کی وجہ سے باقیوں کو بھی نہیں بچائے گا اللہ تعالے نے فرمایا۔اسے ابراہیم ! اگر اس میں سو مومن ہوں تو میں ان کی وجہ سے سب کو بچانوگا مگر وہاں تو اس قدر بھی نہیں۔تب ابراہیم نے کہا اسے خدا ! اگر اس میں تو سے مومن رہتے ہوں تو کیا محض اس لئے کہ دس مومن کم ہیں تو سب کو تباہ کر دے گا۔اللہ تعالے نے کہا نہیں اگر فتنے مومن بھی ہوں گے تب بھی میں ان سب کو بچا نونگا۔تب حضرت ابراہیم نے یہ مجھ کو کہ وہاں تو ہے مومن بھی نہیں کہا اے خدا ! اگر وہاں انٹی مومن ہوں تو کیا انٹی مومنوں کی تو قدر نہیں کریگا اور ایسی بستی کو ہلاک کر دے گا۔خدا نے کہا: اگر وہاں اسی مومن بھی ہوں تب بھی میں بستی کو ہلاکت سے بچا لونگا۔یہانتک کہ ہوتے ہوتے آخر حضرت ابراہیم‎ دس تک آگئے اور کہا۔اسے خدا اگر وہاں دس مومن ہوں تو کیا یہ کم ہیں۔اور کیا ان کی وجہ سے تو باقیوں کو ہلاکت سے نہیں ہنچائے گا۔اللہ تعالے نے فرمایا کیوں نہیں۔اگر وہاں دس مومن بھی ہوں تب بھی وہ نیکی کا بیج ہوں گے اور اس بستی کی ترقی کی امید ہو سکتی ہے۔مگر وہاں تو دس مومن بھی نہیں۔اتب حضرت ابراہیمہ خاموش ہو گئے اور انہوں نے حضرت لوط اور ان کے خاندان کے لئے دعا کی اور وہ بچائے گئے اللہ اس سے ان کے ایمان کا پتہ چلتا ہے مشرکوں نے انہیں دکھ دیار عزیز رشتہ داروں سے انہیں جدا ہونا پڑا ، آگ میں انہیں ڈالا گیا ، وطن سے بے وطن ہونا پڑا اور سینکٹر وسیل دور جا کر انہیں رہنا پڑا کر پھر بھی بنی نوع انسان سے شفقت ان کے دل میں اتنی تھی کہ اپنی قوم نہیں بلکہ ایک اور قوم کی تباہی کا حکم آتا ہے اور آپ وہاں بھی شفاعت کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔در اصل حضرت ابراہیم کا دل اس یقین سے پر تھا کہ جو تعلیم انہیں دی گئی ہے وہ اختر