خطبات محمود (جلد 2) — Page 128
۱۲۸ فزوده ۲۰ مئی سن ۶۱۹۸۲ مقام باخ حضرت مرزا سلطان احمدرضا قادریا ، میں صحت کی خرابی کی وجہ سے اس وقت کچھ زیادہ تو نہیں بول سکتا۔کیونکہ جمعہ کے دن خطبہ پڑ ھنے کی وجہ سے جو کھانسی کی شدت ہو گئی تھی ، اس میں تخفیف نہیں ہوئی۔لیکن چونکہ اس تقریب پر کچھ نہ کچھ خطبہ کہنا سنت ہے اور قرآن کریم کی آیات سے بھی اس کا استدلال ہوتا ہے اس لئے میں اختصار سے موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یہ عید ایک بہت بڑی قربانی کی یاد میں ہے اور یہ عید اس واقعہ کو یا د رکھنے کے لئے ہے کہ خدا کی تائم کردہ جماعتوں اور اس کے بنائے ہوئے سلسلوں میں کچھ افراد ایسے ہوں جو اپنی زندگیوں کو کلی طور پر دین کے لئے وقف کر دیں۔جیسا کہ میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے ہرگز یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ فرمایا کہ واقعہ میں اپنے بچہ کو ذبح کر دو۔انسانی قربانی کبھی بھی شریعت اسلامیہ سے ثابت نہیں کہ دنیا میں جائز قرار دی گئی ہے۔قرآن شریف نے حضرت آدم کے زمانہ کی قربانی کا ذکر کیا ہے لیے اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ انسان کی قربانی نہیں بلکہ دوسرے جانوروں کی قربانی کی گئی۔کہا جاتا ہے کہ انسان کی قربانی کا بکرے کی قربانی کو قائم مقام قرار دیا گیا بلکہ یہ بات ان معنوں میں تو صحیح ہے کہ ایک انسان کی قربانی کا نشان قائم رکھنے کے لئے بکرے وغیرہ کی قربانی کا حکم دیا نیا ہے مگر یہ کہنا کہ پہلے انسان کی قربانی کا حکم تھا جسے بدلا گیا، یہ غلط ہے۔کیونکہ حضرت آدم کے دو بیٹوں کی قربانی کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے۔مگر انہوں نے انسانی جانوں کی قربانی نہیں کی بلکہ دوسرے جانور کی کی۔ان کے متعلق جو - دایات آتی ہیں وہ سچی ہوں یا جھوٹی ، ان سے پتہ لگتا ہے کہ ایک نے بکرے کی قربانی کی اور دوسرے نے اور چیزوں کی۔پس اگر وہ روایات صحیح ہوں یا ان کا کوئی حصہ صحیح ہو تو یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیک اب تک جانوروں کی قربانی کا رواج رہا ہے کہ ایسی حالت میں یہ کہنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ تک انسانوں کی قربانی کی جاتی تھی۔پھر بکرے کی قربانی منظور ہوئی ، یہ درست نہیں جبکہ ابتداء سے ہی یہی ثابت ہوتا ہے کہ الہی سلسلوں میں انسان کی قربانی کبھی نہیں دی گئی۔بلکہ اور جانوروں کی دی جاتی تھی کبھی بچوں کو قربان کرنے کا حکم نہ دیا گیا تو پھر یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالے نے انسانی قربانی کو موقوف کرنے کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلامہ کو پہلے بچے کی قربانی کا