خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 115

محبت کرنے والے ماں باپ ہوتے ہیں، اتنی ہی زیادہ انہیں یہ فکر ہوتی ہے کہ ان کے بچے خوب کھائیں پئیں۔مگر یہ حیوانوں والی زندگی ہوتی ہے، اس طرح وہ گویا اولا د نہیں پالتے۔بلکہ دنبہ پالتے ہیں۔کیونکہ دنبہ کے لئے صرف کھانے پینے اور رہائش ہی کی فکر کرنی پڑتی ہے اور بہت لوگ اپنی اولاد کی بھی اتنی ہی فکر کرتے ہیں کہ اسے اچھا کھلائیں ، اچھا پلائیں اچھی زانش ہو ، اچھا کپڑا اپنائیں، یہ دنبہ کی نسبت زائد بات ہو گی۔کیونکہ دنبہ کپڑے نہیں بن سکتا۔لیکن دیکھا ہے بعض لوگ دنبوں کو بھی جھولیں پہناتے ہیں۔اللہ تعالے نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو۔کیا ہمیں یہ دکھایا کہ انیس کو ذبح کر دا تو اس کا یہ مطلب تھا کہ ہمعیل میں جو منہ کی خصلت ہے اسے ذبح کرو۔یہ نہیں کہ اس کی انسانیت کی خصلت کو ذبح کرد و خدا تعالے نے بتایا۔اسے ابراہیم ۹۰ سال کی عمر میں تمہارے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اس لئے تمہاری خواہش ہوگی کہ اسے اچھا کھلاؤ پلاؤ ، ہر طرح اسے آرام پہنچاؤ۔لیکن اس طرح تو یہی ہو گا جیسے دنبہ پالا ، اس سے کیا فائدہ ہو گا دنیا کو اور اس سے کیا نقع ہو گا تمہارے حسن اندان کو۔یہ ایک دنبہ ہو گا اور یں۔اس لئے آج ہم تمھیں حکم دیتے ہیں کہ دنبہ کو ذبح کردو۔گویا انسانیت باقی رہے او ر و بند بن ذبح ہو جائے۔چنانچہ حضرت ابرا ہیم نے اس حکم کو عملی جامہ اس طرح پہنایا کہ دنیا سے الگ تھلگ ایک وادی غیر ذی زرع میں جہاں دانہ نہ بن سکے ، حضرت انجیل کو چھوڑ آئے۔یه حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اہلی زندگی کی اصلاح کی بنیاد رکھی گئی اور بتایا گیا کہ بیٹوں کو دنیوں کی طرح نہ پا کو بلکہ ان کی روحانی تربیت کا خیال رکھو چنا نچہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اسٹیل کی قربانی کرو اور اس کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام تیار ہو گئے تواضع کر دیا اس لئے حضرت انھیں کی قربانی نہ ہوتی بلکہ دینیہ کی قربانی کی۔اور جب خدا تعالے نے یہ فرمایا کہ اسمعیل کی نسل میں نبوت رہے گی تو یہ نتیجہ تھا دنبہ کی قربانی کا مطلب یہ کہ اگر اولاد کی اصلاح اور تربیت کا خیال رکھا جائے گا اور اسے دنبہ کی طرح نہ پا لو گے بلکہ دنبہ پن کو فریبا کر دو گے تو اس کے نتیجہ میں اس اولاد میں نبوت رہے گی۔اس وجہ سے حضرت ابرارسیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت رہنے کا وعدہ تھا اور نہ یہ ظالمانہ و عدہ بن جاتا۔اور اس طرح لحاظ ابن جاتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی اولا دخواہ کیسی ہی ہو اس میں نبوت رہے گی۔اور دوسروں کو اس سے محروم رکھا جائے گا۔اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر اولاد کی تربیت کے وقت تم محبت کے احساسات کو قربان کر دو گے۔اس کے اندر اچھے اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرو گے اس کے آرام و آسائش کو اس لئے قربان کر دو گے کہ خدا تعالے کی محبت اس کے دل میں