خطبات محمود (جلد 2) — Page 112
١١٢ ۱۵ ا فرموده ۱۱ جون ۱۹۳۶ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود میرا تمام قادیا آج کچھ او از فقر تا نیچی ہے کیونکہ طبیعت اچھی نہیں اور کچھ لوگوں کی آواز اونچی ہے ا مجمع میں عورتوں اور بچوں کا شور تھا، اس لئے نہیں کہ سکتا کہ سب دوستوں تک آواز پہنچا سکوں گا یا نہیں لیکن چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے کہ عید کی نماز کے بعد خطبہ پڑھا جائے ، اس لئے اس سنت کی اتباع میں مجھے خطبہ پڑھنا چاہیئے خواہ آواز سب تک پہنچنے یا نہ پہنچے۔آج کا دن اپنے اندر ایک خصوصیت رکھتا ہے۔یہ دن یادگار ہے ایک نئے دور کی جو دنیا پر آیا۔یہ دن یاد گار ہے ایک نئے دور کی جس نے پہلے دور کو ختم کر دیا۔یہ دن یادگار ہے ایک نئے آدم کی جس نے نئی قسم کی نسل جباری کی۔یہ دن یادگار ہے اس آدم کی جس کے ذریعہ اہلی اصلاح کا کام شروع ہوا۔کیو نکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دور اہلی اصلاح کا دور ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دو بڑی خصوصیتیں حاصل ہیں۔ایک یہ ہے کہ ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کا نام رکھا جس کے سپرد آخری اصلاح دنپ کی رکھی گئی ہے۔یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالے نے اسلام کی بشارت کے لئے چنا اور ان کے ذریعہ بتایا کہ آئندہ السلام کا دور ہو گا لیے اس طرح ایک تو خدا تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذاتی قربانی کے لئے چنا اور دوسری یہ خصوصیت ان کے لئے مقدر فرمائی کہ ان کو اہلی قربانی کے لئے چنا۔ان کو رویا میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرتے ہیں اور اکلوتے بیٹے کو ذینج کر کے خدا تعالے کی رضا اور خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس رڈیا کو عملاً پورا کرنا چاہا کیونکہ اس زمانہ میں انسانوں کی قربانی عام تھی۔اور جب تک نہی کوئی خاص حکم نہیں پاتا۔اس وقت تک عام مروجہ باتوں کو ہی قبول کرتا ہے۔چونکہ مذہب کے نام پر اس وقت تمام کے تمام مذاہب انسانی قربانی کے عادی تھے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھ کے اللہ تعالے اس قربانی کوت کم کرنا چاہتا ہے اور مجھ سے بھی یہی چاہتا ہے۔اس وجہ سے انہوں نے یہ نظر اندا نہ کر دیا کہ 40 سال کی عمر میں ان کو بیٹیا ملا تھائیے انہوں نے چاہا کہ اس بیٹے کو کبھی خدا کی رضا کے لئے قربان کر دیں۔مگر اللہ تعالے انہیں اور سبق دینا چاہتا تھا اور وہ عظیم الشان سبق تھا جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اب بھی مسلمان تباہ ہو رہے ہیں۔لوگ اٹھتے