خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 82

AP نہیں۔آپ بے شک جائیں۔خدا خو د ہماری حفاظت کرے گا اور وہ ہم کو ضائع نہیں ہونے دیگا اور تسلی سے واپس آگئیں۔اور اپنے بچے حضرت اسمعیل علیہ اسلام کے پاس جو اس وقت چھ سات برس کی عمر سے زیادہ ہے نہ تھے بیٹھ گئیں۔اس وقت اگر وہ چاہتیں تو کسی آبادی کی طرف رخ کرلیتیں مگر انہوں نے خدا تعالے کے حکم کا احترام کیا اور اسی کے توکل اور بھروسہ پہ اس جنگل بیابان کی رہائشی منظور کر لی جہاں نہ کوئی آبادی تھی نہ بازار ، نہ کوئی کنواں تھا نہ تالاب - آخر پانی کا ایک مشکیزہ اور کھجوروں کی ایک تھیلی کیا ہوتی ہے۔تھوڑے عرصہ میں پانی بھی ختم ہو گیا اور کھجوریں بھی ختم ہو گئیں۔حضرت ہاجرہ کو بھی گو تکلیف تھی مگر بچے کی تکلیف کو دیکھ کر وہ بہت بے قرار ہوگئیں اور صفا اور مروہ دونوں پہاڑیوں پر ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر دوڑنا اور اوپر چڑھ کر دیکھنا شروع کیا تاشاید کوئی آتا جاتا قافلہ ہی نظر آجائے جس سے پانی لے کر بچے کو پلائیں اور خود بھی نہیں۔جب وہ صفا پر یا مردہ پر چڑھتیں تو ساتھ ہی چلا کر ہر دفعہ ی بھی کہتیں کہ کوئی خدا کا بندہ ہے جو ہمیں پانی دے؟ اور ساتھ ہی بچے کی حالت کو دیکھ کر اور بھی پریشان ہو جائیں۔جب ان کی گھبراہٹ انتہاء کو پہنچ گئی تو خدا کے فرشتے نے ان کو بشارت دی کے لئے اجرہ باگھبرا نہیں۔جانتیرے بچے کا سامان خدا نے کر دیا ہے۔چنانچہ جب وہ بچے کے پاس آئیں تو دیکھا کہ خدا نے وہاں پانی کا چشمہ پیدا کر دیا ہے جو آجتک قائم ہے اور زمزم کہلاتا ہے انہوں نے بچے کو پانی پلایا اور خود بھی پیا۔آہستہ آہستہ وہاں آبادی ہوگئی۔کوئی قافلے اپنے جو وہاں سے گزرے تو انہوں نے تجارتی ترقی کے لئے یہ مناسب سمجھا کہ اس چشمے پر پڑاؤ قائم کیا جاے جہاں قافلے آکر بھرا کریں۔چنانچہ اسی خیال سے وہ اپنے کچھ آدمی اس چشمہ پر چھوڑ گئے کہ اس سے ہماری تجارت میں ترقی ہو گی۔آخر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے نتیجہ میں وہاں بہت بڑی آبادی ہو گئی۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تیا ئے کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کر دیا۔اور اس تعلق در محبت کی کچھ پرواہ نہ کی جو اُن کو اپنے بچے سے تھی۔کیونکہ طبعی طور پر بڑھاپے میں جا کر جو اولاد ہوتی ہے اس سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام بڑھاپے میں آپ کے ہاں پیدا ہوئے تھے ، اس لئے حضرت ابراہیم علیہ سلام کے دل میں ان کی نہایت گہری اور شدید محبت تھی مگر خدا کے لئے انہوں نے اس کو قربان کر دیا۔تب اللہ تعالے کی طرف سے ان کو الہام ہوا کہ اسے ابراہیم ! آسمان کی طرف دیکھے۔کیا تو آسمان کے ان ستاروں کو گن سکتا ہے۔انہوں نے عرض کیا۔یہ میری طاقت سے باہر ہے کہ میں آسمان کے ستاروں کو گن سکوں تب خدا نے فرمایا۔اسے ابراہیم ! میں نے تیری قربانی کو دیکھا۔اب میں تیری اس قربانی کے بدلے