خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 51

41 کا قائم مقام ہے۔اس کے لئے جو قربانیاں کی جائیں گی ضائع نہیں جائیں گی اور پھر ان قربانیوں میں جو نیت ہوگی اس کے مطابق پھل ملے گا۔آج ہم مال ، جان عززت وآبر در سیاست اگر خدا کے لئے قربان کر دیں گے تو خدا اسے ضائع نہیں ہونے دیا۔سیاست تو کہنے کو ہے در نہ دیکام خدا نے ایک ایسی قوم کے سپرد کر دیا ہوا ہے جو عدل و انصاف سے حکمرانی کرتی ہے پس ہر ایک چیز جو قربان کی جائے اس کے ساتھ نیت ہوئی مزو رہی ہے۔اور اس کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال بہترین مثال ہے۔پھر دیکھو مکہ چھوڑنے کو تو سب نے پھوڑا۔رسول کریم نے ابوبکر قدرت نے۔حضرت عمر و خثمان و علی نے۔مگر ہر ایک کو اس کی نیت کے مطابق بدلہ ملا۔اسی طرح گھر تو سب نے چھوڑے مگر خلیفہ سب نہیں بن گئے تھے۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر ایک کی نیت ایک صبی نہیں ہوتی اور جتنا جتنا فرق ہوتا ہے۔اسی کے مطابق بدلہ ملتا ہے۔اس فرق یا کسی کے بیعنی نہیں ہوتے کہ ایک کے مقابلہ میں دوسرے کی نیت ناقص اور خراب ہوتی ہے بلکہ یہ کہ مدارج میں فرق ہوتا ہے۔ایک کی نیت اعلی درجہ کی ہوتی ہے اور دوسرے کی اس سے کم درجہ کی مہ کی خراب۔حال میں مولوی محمد علی صاحب نے مجھے ایک بھی لکھی ہے۔میں نے لکھا تھا کہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی فرد رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع میں بادی کامل نہیں ہوا جیسا کہ حضرت مرزا صاحب۔بلکہ آپ کے مقابلہ میں ان میں کمی رہی ہے۔اس کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ یہ امت محمدیہ کے بزرگوں کی مہتک کی گئی ہے۔حالانکہ کسی کے معنے یہ نہیں ہوتے کہ کمال ہوتا ہی نہیں۔کمال تو ہوتا ہے مگر اس کے بھی درجے ہوتے ہیں۔دیکھو حضرت موسی علینی و داؤد۔ہزاروں نبی ہوئے ہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان میں کوئی ایک کامل ہے۔اور باقی ناقص ہیں۔کامل تو وہ تھے مگر ہر ایک کے درجہ میں فرق ہے اور اس میں کسی کی متک نہیں۔اسی طرح رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو بزرگ ہوئے انہیں جس قدر تقویٰ و طہارت حاصل تھا اس میں کوئی نقص نہ تھا لیکن وہ کمال کے اس درجہ تک نہیں پہنچا ہوا تھا جو مرتبہ نبوت پانے کے لئے ضروری ہے اور یہ بات صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی حاصل تھی اس لئے آپ نبی ہوئے۔اس وقت میں نے جو یہ کہا ہے کہ ہجرت تو سب نے کی لیکن سب کو ایک جیسے نتائج حاصل نہ ہوئے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ جن کی ہجرت کے کم درجہ کے نتائج نکلے ان کی نیت درست اور ٹھیک بھی۔ٹھیک تھی لیکن مقابلہ کے لحاظ سے اس میں فرق تھا اور فرق نقص نہیں ہوتا اس کو نقص قرار دنیا نادانی اور بیوقوفی ہے تو عمل کے ساتھ نیت کو بہت بڑا دخل ہے اس لئے میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں ان کے لئے بہر قسم کی قربانیاں کرنے کی منہ برستے