خطبات محمود (جلد 2) — Page 390
٣٩٠ کہ سرحد پر پٹھانوں کے حملے ہو رہے ہیں اور وہ بڑی سختی سے حملہ کرتے ہیں کیا اسلام میں یہ بات جائز ہے کہ اگر کوئی دشمن ہمارے کسی آدمی کو مارے او راس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے تو اس کے مقابل ہیں بھی ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے۔میں نے کہا ہاں قرآن کریم میں جاوا - سية مشا۔یہ مسئلہ تو فقی طرز کا تھا جو میں نے خواب میں بتایا لیکن خواب کا دوسرا حصہ نہایت اہم تھا مجھے خواب میں بتایا گیا کہ اگر انگریزوں نے اس محاذ پر اپنے چوٹی کے افسر نہ بھیجے تو نہیں شکست ہوگی۔اتفاق کی بات ہے کہ میں کچھ عرصہ کے بعد شملہ گیا وہاں گورنمنٹ آف انڈیا کے ہوم سیکرٹری نے مجھے چائے پر بلایا۔اس وقت مسٹر کہ میرا ہوم سیکرٹری تھے جو وائسرائے ہند کے رشتہ دار تھے۔اس موقعہ پر سر ولیم ( SIR WILLIAM) بھی آئے ہوئے تھے جو انگریزی فوج کے (1) چیف آف دی جنرل سٹاف تھے، ان کا ایک بھائی اس وقت بادشاہ انگلستان کا پرائیویٹ سیکٹری تھا باتوں باتوں میں اس خواب کا ذکر آگیا۔جو میں نے اوپر بیان کی ہے تو سر بیم بے اختیار بول اُٹھے کہ آپ کی رویا بالکل درست ہے۔اور میں اس کا گواہ ہوں میں ان دنوں اس فوج کا کمانڈر تھا جو پٹھانوں سے لڑ رہی تھی۔ایک دن پٹھان فوج ہمیں دھکیل کر اتنا پیچھے لے گئی کہ ہماری شکست میں کوئی شبہ باقی نہ رہا اور ہمیں مرکز کی طرف سے یہ احکام موصول ہو گئے کہ فوجیں واپس لے آؤ۔چنانچہ ہم نے اپنا سامان ایک حد تک واپس بھی بھیجدیا تھا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ پٹھان فوج کو ہماری فوجی طاقت کے متعلق غلطی لگ گئی اور وہ آگے نہ بڑھی۔اگر وہ آگے بڑھتی تو افغان فوج ڈیرہ اسمیل خان تک ہمیں دھکیل کرلے آتی۔سرولیم نے بتایا کہ پٹھانوں کے جتھے ہمارے مقابلہ پہ۔آتے تو وہ مرتے چلے جاتے اور اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہتا جب تک کہ وہ اس علاقہ کو فتح کر لیتے۔آخر ہمیں حکم ہوا کہ اپنی فوجیں پیچھے لے جاؤ۔نادر شاہ بدت ہوشیار جرنیل تھا اس نے قبائلیوں کو اکٹھا کر کے ان کی تنظیم کر لی تھی۔یہ لوگ چاروں طرف سے پہاڑوں سے بارش کی طرح اُترتے اور انگریزی فوج کے سپاہیوں کو مارتے چلنے جاتے اور تھور کے ہی عرصہ میں انگریزوں کی رائفلیں ان کے پاس ہو تیں جس کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرنا انگریزوں کے لئے مشکل ہو گیا۔اب دیکھو یہ قربانی کا ہی نتیجہ تھا کہ نا تجربہ کار لوگ مسلح فوج پر غالب آگئے۔اسی طرح اگر سب مسلمانوں کے اندرا براہیمی روح پیدا ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔عید الا منجیہ ہمارے اندر اسی قسم کا نمونہ پیدا کرنا چاہتی ہے اگر ہم ابراہیمی روح اپنے اندر پیدا کر لیں اور پاکستانی خدا تعالے کی راہ میں مرنا قبول کرلیں تو وہ یقینا دنیا پر غالب آسکتے ہیں۔لیکن شرط یہی ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی کہ میہ کی بیوی