خطبات محمود (جلد 2) — Page 386
سے مراد اس کو دین کی خاطر ایسی جگہ پر رکھنا مراد تھا جہاں کھانے پینے کے سامان مہیا نہیں تھے۔چنانچه گو قرآن کریم کے مطابق بھی آنفیل کو ذبح کرنے سے منع کر دیا اور اس کی جگہ ایک دنبہ ذبح کرنے کی تلقین کی لیکن خواب کا جو اصل مفہوم تھا یعنی انجیل کو ایک بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ آنا اس سے ابر اسی کو منع نہیں کیا بلکہ اسی حکم پر ابراہیم سے عمل کروایا۔چنانچہ آجتک کہ اسمعیل کی نسل سے آباد ہے اور خدائے واحد کی وہاں پرستش کی جاتی ہے اور خدا تعالے کی طرف لوگوں کو بلایا جاتا ہے۔اس تشریح کے مطابق ابراہیم نے واقعہ میں الفیل کو قربان کر دیا۔اور یہ قربانی مظالمانہ اور وحشیانہ قربانی نہیں تھی۔بلکہ پر مغز اور با معنی قربانی تھی جس سے آجتک دنیا فائدہ اُٹھا رہی ہے۔اور اب بھی ہمعیل کے ذریعہ سے اس بے آب و گیاہ جنگل میں خدا تے واحد کا نام مبند کیا جاتا ہے آج ہم اس واقعہ کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے اس جگہ پر نمیچ ہوئے ہیں۔لاکھوں آدمی اکس وادی غیر ذی زرخ میں جمع ہیں اور بلند آواز سے کہہ رہے ہیں لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك اسے میرے خدا میں حاضر ہوں جس طرح کہ ابراہیم نے کہا تھا کہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تیری توحید کو پھیلانے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ذرا اس بات پر غور کرو اور سوچو کہ بائیبل میں بیان کیا ہوا واقعہ قرآن کے بیان کردہ واقع سے کیا کوئی بھی مناسبت رکھتا ہے۔باغیل کا حکم تو ایاک و حشیانہ اور ظالمانہ حکم معلوم ہوتا ہے جس میں کوئی حکمت نہیں بھتی۔اسحق کے گلے پر چھری پھیرنے سے دنیا کو کیا فائدہ ہو سکتا تھا یا خود اسخن تو کیا فائدہ ہو سکتا تھا۔مگر اسمعیل کو مکہ میں چھوڑنے سے آئیل کو بھی فائدہ ہوا اور دنیا کو بھی فائدہ ہوا۔انھیں توحید کھانے کا ایک بہت بڑا استاد بن گیا اور دنیا اس کے ذریعہ سے خدائے واحد کی عبادت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔مکہ کو دنیا کے نقشہ سے الگ کر دو تو ساری دنیا میں تو جیب کا کوئی مرکز باقی نہیں رہتا۔اور آمین کی قربانی کو حذف کردو۔تو خدا کے لئے نہ ندگیاں وقت کرنے والا ولولہ پیدا کرنے کی کوئی صورت دنیا میں باقی نہیں رہتی۔اسحاقی اپنی قربانی دینے کے لئے تیار ہو گیا۔بڑی اچھی بات ہے۔مگر ہم تو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ اسحاق ایک خدا پرست انسان تھا۔انھیں بھی اپنی قربانی دینے کے لئے تیار ہو گیا اور ہم کہ سکتے ہیں کہ تکمیل توحید کے لئے زندگی وقف کر کے دنیا کا حسن بن گیا اور جس جس جگہ پر اس نے یہ قربانی اور پیش کی تھی وہ ہمیشہ کے لئے توحید کا مرکز بن گئی۔پس خدا تعالے کی برکتوں کا مستحق ہے سمعیل اور خدا تعالنے کی برکتوں کا مستحق ہے۔مکہ جہاں اس نے قربانی پیش کی قیامت تک خدا کی توحید کا جھنڈا وہاں کھڑا رہے گا۔تو میں قوموں پر چڑھائی کریں گی۔ایک قوم کے بعد دوسری قوم کا جھنڈا زمین پر گرے گا مگر مکہ میں اسمعیل کے ہاتھ سے گاڑا ہوا توحید کا بھنڈا قیامت تک کھڑا رہے گا۔