خطبات محمود (جلد 2) — Page 379
سے نکال سکتے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں اب محمد و وجہ اسی طرف دیکھتے میں تو میری نظر تائج من انو ن دولت نهد میں یہ شور مچایا ہوا سٹورپ کے پاس دولت سے " ہے کہ ہم ساندی دنیا کو کھا نا دیں اور وہ لوگ تہو تھو کے مرتے بس وہ ہم س کہ اگر روس کو جد حالانکہ جو لوگ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ روسی نظام لئے تو ہمیں کھانے کے لئے روتی کوئی برتری ہے وہ غلطی کرتے ہیں سی القوادہ موقع مل جائے تو وہ بھی دسی کچھ کرئے گا جو انگر یہ کرتے رہے ہیں ی طرح اس نے دنیا کی دولہ دولت سے فائدہ اٹھانا ہے میں طرح انگریز قائدہ اٹھانے سے ہیں غرض ایک قوم کے بعد دوسری قوم مرتی چلی جاتی قوم مرتی چلی جاتی ہے مگر وہ مگروہ عبرت حاصل نہیں کرتی جب ڈ دوسری قوم کی باری آتی ہے تو اس کے افراد بھی چاہتے ہیں کہ ہم اسی طرح ناچیں اسی طرح گائیں، اسی طرح شہر نہیں پہنیں جس طرح پہلی قوم کیا کرتی تھی۔پھر خدا اسے تباہ کر دنیا۔ام کو بھیج دنیا ہے بغرض انسانوں کی موت پر ان کو قبروں میں دفن کیا جاتا ہے۔انسانوں کی موت کی علامت یہ ہوتی ہے کہ تیز بخار ہو گیا با تنز کی اہنی موگئی یا انتڑیوں میں سے خون آنے لگ گی دی کشش ہو گئی اور قوموں کی موت کی علامات سی اور قوم کو یہ ہوتی ہے۔کہ ان کے پاس دولت یہ ت ہوتی ہے۔مگر ان کو اس دولت کے خرچ کرنے کا ڈھ ڈھنگ نہیں آتا ہوہ اسے زیادہ سے زیادہ اپن اچھے سے اچھا لباس پہنتے ہیں۔اچھے مکانات میں ں۔اچھے سے بسر کرتے ہیں محنت کی عادت ان میں سانی جسم کی حرار ہیں اور رات دن تریقہ اور آ ساری علاف طرح قوم کی زندگ؟ ترف پیدا ہوگیا ہے۔کی؟ تو سمجھو کہ منی یہاں ناصر آباد میں اگر تمہارا کیا ہے ، اور وہ موت غذا تعالے کے حکم الڑکا ا ہو جائے ہم اسے گزری بھجوائیں۔گئے گھڑی دا بھجوائیں گے۔میر پور خاص ڈالوں سے پوچھو تو پنے لڑکوں کو میر پور خاص۔والوں سے پو چھوا تو وہ کہتے ہیں کہ ہمرا - لہ کر اپنے لڑکوں کو ا اکلینڈ بھجوائیں گے ترین تم اوپر کی جان جائے۔جولی کن ابرا میرا یہاں رہتے تھے گو وہ نبی ایک چھوٹا ساق تھا ں کو کراچی بھجوائیں گے کراچی مگر انہوں نے اپنے بچے کو