خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 377

موده در اگست شهدا مقامه انه آبا د رسند عید میں کی بات کا سبق دیتی ہے کہ کس طرح قوربانیوں سے قومیں بنتی ہیں اورکس خسرت عیاشیوں سے قومیں مرتی ہیں جس طرح موت ایک ایسی چیز ہے جو ہر انسان پہ آتی ہے مگر پھر بھی دیک اسے یاد نہیں رکھتے۔اسی طرح قومی تباھی بھی ایسی چیز ہے جو ہر قوم پر آتی ہے مگر پھر بھی کوئی قوم اسے یاد نہیں رکھتی یہ ایسا سبکتی ہے جسے آ جنگ کبھی کسی نے یاد نہیں رکھا۔اس کی مثال بالکل یسی ہی ہے جیسے جھیڑوں میں سے جب اگلی بھیڑ کوئی کام کرنے تو دوسری بھیڑ بھی وہی کام کرنے لگتی ہے جو میلی نے کیا ہوتا ہے۔اگر آگے گڑھا ہو اور پیلی بھیڑ اس میں گر جائے تو دوسری بھی اس میں گرتی ہے اور تمیری بھی اس میں گرتی ہے۔یہانتک کہ چرواہا انہیں بٹائے تو وہ ہٹتی ہیں ور نہ اس میں گرتی چلی جاتی ہیں۔تعلم حیوانات کے ماہرین نے ایک دفعہ تجربہ کرکے دیکھا ہے کہ بھیڑ توں کے گھتے کے آگے دو آدمی ایک رہتی پکڑ کر میٹھے گئے اور گیارہ اپنے انہوں نے رستی کو اونچا رکھا جب بھیڑی وہاں پہنچیں تو پہلے پہلی بھیڑ کو دہی پھر دوسری کو دی اور اس کے بعد میری کو دی۔دو تین بھیڑوں کے کو دینے کے بعد انہوں نے دستی بٹالی مگر ہزار بھیڑ اسی طرح کو دتی چلی گئی۔تاب بھی کوئی بھیٹر وہاں پہنچتی تو وہ کود کر اس جگہ سے گزرتی ، گویا اپنے خیال کے نتیجہ میں وہ نہیں اندھی ہو جاتی ہیں کہ دکھیتی نہیں کہ واقعہ کیا ہے۔یہی حال قوموں کا نظر آتا ہے جب کوئی قوم غریب ہوتی ہے مانا تو ان ہوتی ہے کمزور ہوتی ہے اور اس کے افراد دولت مند قوموں کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے بڑے بڑے محلات بنائے ہوئے ہیں، بڑے بڑے تکلفات کے سامان ان میں موجود ہیں آٹھ آٹھ دس دس نوکر ایک ایک شخص کے ہیں ، انہوں نے وردیاں پہنی ہوئی ہیں پائیٹیاں باندھی ہوئی ہیں اور جب وہ گھر کے دروازہ پر پہنچتا ہے تو وہ اسے سلام کر کے بڑی عزت سے بٹھاتے اور اس کی خدمت کے لئے آگے پیچھے دوڑتے ہیں تو بجائے یہ خیال کرنے کے کہ یہ قوم تب ہی کی طرف جا رہی ہے۔دیکھنے والا دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ اگر مجھے دولت ملی تو میں بھی اسی طرح کر دونگا۔وہ دیکھتا نہیں کہ یہ اس قوم کی موت کی علامت ہے جب قومیں مرنے لگتی ہیں تو اسی طرح کرتی ہیں اور اگر وہ اس طرح نہ کریں تو مریں کیوں۔مگر بجائے اس کے کہ وہ تو بہ کرے اور کہے کہ یہ مرتے لگے ہیں اور خدا کا شکر کرے کہ اب ان کی گوبھی پر بیٹھنے کے لئے میری باری آئی ہے وہ انہی کی نقل کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے اور اس طرح خود بھی تباہ ہوجاتا ہے پہلے انگر یہ آئے تو د اکسٹر کے