خطبات محمود (جلد 2) — Page 375
دو بیٹے پیش کروں گا۔کیونکہ میں ابراہیم ہی کی نہیں محمد عرض نیر سلمان اگر حقیقی معیا یہ روحانیت کو حاصیل کرنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ لسلہ انبیاء جاری رہا، اس کا مجھنے کی عادت ڈالے۔یا ں کا اخلاص بالکل اور رنگ اختیا کر لے گا۔اس کی روحانیت ترقی کر جائے گی۔اس کی قربانی بڑھ جائے گی۔او راس کی روح ایک نیا جامہ پہن لینگی۔اور جو چیز اسے پہلے دوسروں کے باپ میں اسے تھی۔سے اپنے خاندان میں نظر آنے لگے گی تب وہ خطرناک وادیاں جن میں سے گذرتے بلکہ داخل ہوتے۔بھی لوگ ڈرتے اور گھبراتے ہیں ان میں سے گذرنا اس کے لئے آسان ہو جائے گا اور وہ خدا تعا کے قرب میں تیزی سے ترقی کرنے لگے گا۔پس اس عید سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ روح اپنے اندر پیدا کرو که به دو سروں کے باپ کے قصے نہیں بلکہ تمہارے اپنے بالوں اور اپنے خاندان کے واقعات میں جو تمہارے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کو عیدالا صحیہ کے ذریعہ تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔د المصلح کراچی ۱۶ اکتوریست و سه ر سنن ابی داود کتاب صلوة العيدين باب الخطبة يوم العيد المائة ۵ : ۱۰۵ - الانعام نعام ۸۸۱۶ الاعراف : ے۔صحیح بخاری کتاب المناقب (نمبیان (الکعبه) باب مالفی النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحاب من المشركين بمكة۔ه - الفاتحه C-4:1 البقره ۲: ۱۳۶ - آل عمران ۳ : ۹۶ - النساء ۴ : ۱۲۶ ه - الاعران ۱۷ ۱۹۰ ، سیا ۲۹:۳۴ شه - تفسیر در منشور جلده من ۲۳ شه - صحیح بخاری کتاب الشروط باب الشروط في الجهاد والمصالحة من اہل الحرب - تاریخ کامل ابن اثیر اند تاریخ طبری ، زرقانی شرح المواہب الله نیه 104 2 - غزوہ احزاب یا خندق کے متعلق نوٹ منٹ پر ملاحظہ فرمائیں۔