خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 364

۳۹۴ ۴۲ ر فرموده ۱۲ اگست تر مقام با اوسنگ سوسائٹی کراچی) بوجہ اس کے کہ رستہ میں غالباً ایک جگہ کھانے میں خرابی تھی اور گھی خالص نہیں تھا میرا گلا بیٹھے گیا۔یہاں آکر بھی ابھی گلے کی خرابی برابر چلی جارہی ہے اور وہ درست ہونے میں نہیں آتی ، شاید یہاں بھی لگھی میں خرابی اور ملاوٹ ہے۔ہر حال گلے کی سوزش اور آواز کے بیٹھنے اور پھر پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے میں زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہو سکتا۔یوں تو پاؤں میں ایسی تکلیف نہیں جو کھڑے ہونے میں زیادہ وقت پیدا کر سکے ، صرف انگوٹھے میں تکلیف ہے اور پاؤں کے دوسر حصہ پر دباؤ ڈال کر میں کھڑا ہو سکتا ہوں لیکن اگر کوئی اور تکلیف ہو جائے تو پھر اسے بھی میں محسوس کرنے لگتا ہوں۔اسی سفر میں میں نے انگوٹھے کی تکلیف کے باوجود ایک لمبا خطبہ دیا تھا جو اب تک میں درست نہیں کر سکا کیونکہ اس کا بھی طبیعت پر بوجھ معلوم ہوتا ہے۔بہر حال عید الاضحیہ کا خطبہ ایک مسنون خطبہ ہے ہے اور ایک بڑے واقعہ کی یاد دلاتا ہے اس لئے کچھ نہ کچھ تو اس موقعہ کے مناسب حال کہنا ضروری ہوتا ہے۔اس لئے تکلیف کے باوجود میں یہاں آگیا ہوتے قوموں میں یادگاریں تا تم رکھنے کا بڑا بھاری رواج ہے اور مختلف قومیں اپنی اپنی یادگار قائم رکھتی ہیں۔اوروں کو جانے دو چوہڑوں اور چاروں تک میں یا حساس پایا جاتا ہے۔کہ وہ اپنی قومی روایات کو نتائم اور زندہ رکھیں اور انہوں نے بھی اپنے لئے کوئی نہ کوئی فخر کی بات نکالی ہوئی ہوتی ہے۔علم النفس کے ماہرین کا تجربہ ہے کہ انسانی جد وجہد جو اپنے نفس کی بہتری کے لئے کی جاتی ہے ، اس کو جاری رکھنے اور پوری شان کے ساتھ جاری رکھنے کے لئے جن ذرائع کو استعمال کیا جاسکتا ہے ان ذرائع میں سے زیادہ اہم اور موثر ذریعہ ٹریڈیشن (TRADITION) لیسنی روایات سابقہ ہوتی ہیں۔ایک بچہ جب اپنے کام کے لئے اپنی جد و جہد کو لمبا نہیں کرسکتا تو اس کے رشتہ دار اور دوست اور عزیز و اقرباء اسے کہتے ہیں کہ ذرا یاد رکھنا تم کن کی اولاد میں سے ہو اور فورا اس کی طبیعت اصلاح کی طرف مائل ہو جاتی ہے اور وہ اپنی ناکام جد وجہد کو کامیابی میں بدل دیتا ہے۔قرآن کریم نے بھی اس طریق کو استعمال کیا ہے اور اس نے لوگوں کے سامنے ان کے آباد کے کارنامے رکھے نہیں بلکہ قرآن کریم نے یہ حربہ دوہرے طور پر استعمال کیا ہے۔اس نے کفار کے آگے بھی ان کے آباد کے کارنامے رکھتے ہیں اور انہیں توجہ دلائی ہے کہ جب تم ایسے