خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 340

۳۴۰ اڑنے والوں میں سے 20 کی نعشیں میدان میں ملیں اور ایک کی نہ ملے اور وہ بھاگ جائے تو یہ بھی ہماری ذلت ہے۔مومن کے معنے ہی یہ ہیں کہ وہ اپنی جان کی پر واہ نہیں کرتا۔اگر احراری حمدیوں کو مارتے ہیں تو صرف اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ریزہ ولیوشن پاس کر سکی عادت ہو گئی ہے۔یہ ریزولیوشن پاس کریں گے اور بیٹھ جائیں گے۔جہانتک قانون شکنی کا سوال ہے۔حمدیت اس سے روکتی ہے۔لیکن کیا تم سمجھتے ہو کہ جہاں اسلام اور احمدیت نے قانون شکنی سے منع کیا ہے وہاں اس نے اس کا کوئی علاج نہیں بتایا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ انگر یہ آدھی دنیا پر حاکم تھے۔جب پہلی جنگ ہوئی تو ان کی طاقت پوری طرح قائم تھی لیکن انہوں نے قادیان کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے تھے۔ہم نے قانون شکستی نہیں کی تھی صرف الہی تدبیر سے کام کیا تھا لیکن حکومت کو پارلیمینٹ میں اعلان کرنا پڑا کہ ہمیں احمدیوں کے متعلق کوئی شبہ نہیں کتنا تلخ گذرا ہوگا یہ لمحہ اس گورنر پریس نے حکم دیا تھا کہ تم سے نقص امن کا خطرہ ہے۔اس لئے فلاں دفعہ کے ماتحت نہیں یہ نوٹس دیا جاتا ہے۔اسے پارلیمنٹ کے سامنے بیان دینے کے لئے یہ ماننا پڑا کہ جماعت احمدیه نهایت و فادار جماعت ہے۔کتنے تلخ گھونٹ تھے جو اسے پینے پڑے مگر نہ ہم نے کسی کو مارا تھا نہ پیٹا تھا اور نہ قانون شکنی کی تھی۔صرف جماعت میں اس وقت اما دہ عمل تھا اور نظر آتا تھا کہ جماعت میں عمل کی قوت موجود ہے۔اس وقت میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں وہ قوت عمل نہیں پائی جاتی جو اس وقت پائی جاتی تھی۔اس لئے میں چپ ہوں۔جب میں لفضل میں ریزولیوشن پڑھتا ہوں تو ہنستا ہوں کہ یہ غم و فتہ کی لہر کہاں سے آگئی جو الفضل کے ایڈیٹر کو نظر آگئی ہے۔مان لیا کہ میری جسمانی نظر کمزور ہے اور نہیں عینک استعمال کرتا ہوں لیکن میری باطنی آنکھیں تو ان سے تیز ہیں مگر مجھے وہ غم و غصہ کی لہر نظر نہیں آتی۔پھر غم کی ہر تو جائزہ ہے کہ غصہ کی لہر اسلام میں بالکل جائزہ نہیں ہے۔مسلمان پر غصہ کی لہر نہیں آسکتی غصہ کے معنے ہیں اس قدر غیظ ہوتا کہ انسان کی عقل ماری جائے اور اس کا گلا گھٹنے لگ جائے۔لیکن غضب جائز ہے، خدا تعالے غضب کرتا ہے لیکن اسے حصہ نہیں آتا۔کیونکہ جسے غصہ آتا ہے اس کی جان تنگ ہو جاتی ہے۔اور وہ اپنے آپ کو مارنے پر تیار ہو جاتا ہے اور یہ چیز اسلام میں جائزہ نہیں۔لیکن میاں تو غم کی لہر بھی نظر نہیں آتی جیسے وہ پہلے تھے ویسے ہی اب ہیں۔سیدھی بات ہے کہ اس وقت میں نے ، ۲ ہزار روپر یا نگا تھا اور ایک لاکھ سات ہزار روپیہ کے وعدے آگئے تھے۔اب یہ حال ہے کہ دو لاکھ چالیس ہنر آ کے وعدوں میں سے نو ماہ میں صرف ایک لاکھ بیس ہزار کی رقم وصول ہوئی ہے۔لیکن پہلے ایک لاکھ سات ہزار کے وعدوں میں سے سال میں ایک لاکھ دس ہزار روپیہ وصول ہو گیا تھا۔یہ