خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 316

پیدا کر دیا ہے۔کاش مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں۔اور وہ مجھیں کہ آج سوائے ایک ہاتھ پر جمع ہونے کے ان کی نجات کی اور کوئی صورت نہیں اور اسی شخص کے ہاتھ پر تمام دنیا کے لوگ اکٹھے ہو سکتے ہیں جیسے خدا نے کھڑا کیا ہو کو ئی انسانی ہاتھے ساری دنیا کو متحد نہیں کر سکتا ، عرب عراق کے ہاتھے پر جمع نہیں ہو سکتا، عراق سعودی عربیہ کے ہاتھ پر جمع نہیں ہو سکتا، مصر شام کے ہاتھ پر اکٹھا نہیں ہو سکتا۔اور یہ مغربی علاقے پاکستان کے ہاتھ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔اور پاکستان ان کی اتباع نہیں کر سکتا۔ہر شخص کو اپنی آزادی پیاری ہوتی ہے۔کون ہے جو دوسرے کیلئے اپنی آزادی قربان کر دے۔اس کے لئے اپنی آزادی قربان کی جا سکتی ہے جس کے متعلق انسان کو یہ یقین ہو۔کہ اس کا ہاتھ انسان کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا کا ہاتھ ہے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ایک جرمن تو مسلم کا خط میرے نام آیا جو بڑے اخلاص اور محبت کے ساتھ لکھا ہوا تھا۔میں نے اسے جواب میں لکھا کہ کیا یہ ممکن تھا کہ جرمنی کے لوگ ہندوستانیوں کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے۔یہ خدا کا ہاتھ ہی ہے جو تمہیں ہندوستان میں رہنے والے ایک شخص کی طرف کھینچ لایا۔ورنہ وہ لوگ جو ایشیا اور ہندوستان میں رہنے والوں کو ذلیل سمجھا کرتے تھے ان سے یہ کب امید ہو سکتی تھی کہ وہ ان کی اطاعت کریں گے۔یہ خدا کے ہاتھ کی ہی برکت ہے کہ اسی ہاتھ پر سب دنیا جمع ہوگی اور اسی سے ساری دنیا ایک دن عدل اور انصاف سے بھر جائے گی۔اب میں دُعا کرتا ہوں سب دوست میرے ساتھ اس دعا میں شامل ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو حقیقی طور پر ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور باقی مسلمانوں کی بھی آنکھیں کھولے تا وہ اپنے اس فرض کو بیچا نہیں جو ان پر عائد ہوتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ نور جو آج دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے اور جس کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ ہمارے ذریعہ سے پھر ظاہر ہو اس میں وہ اپنی غفلتوں اور کشتیوں سے روک نہ نہیں بلکہ اس جماعت میں شریک ہو کر اللہ تعالے کے نور کے پھیلانے میں محمد ہوں تا جلد سے جلد اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو اور وہ اس دُنیا کی حالت کو بدل دے۔نه سنن کبری جلد ۲ هستند ہے۔سنن نسائی کتاب صلاة العيدين باب القصد في الخطبة الفضل در مارچ شاخ)