خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 239

۲۳۹ میں نے دیکھا ہے کئی لوگ ادھر ہماری جماعت میں شامل ہوتے ہیں اور ادھر ان کو یہ حیرت ہونی شروع ہو جاتی ہے کہ ابھی تک العام کا سلسلہ کیوں شروع نہیں ہوا اور مجھے حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو اول درجہ کے بے عمل ہوتے ہیں اول درجہ کے قربانی سے گریز کرنے والے ہوتے ہیں اور ایثار کے موقع پر سب سے پیچھے رہنے والے ہوتے ہیں۔اور وہ سب سے زیادہ شور مچاتے ہیں کہ ابھی تک احمدیت کو وہ ترقی نصیب نہیں ہوئی جو پہلی جماعتوں کو حاصل ہوا کرتی تھی۔میں ان لوگوں سے کہا کرتا ہوں کہ اسے نادانو ! تمہارے گدھے تمہارے اصطبل میں بندھے ہوئے ہیں۔اور تمہارا یکہ تمہارے دروازے کے آگے کھڑا ہے اور تم یہ رٹ لگا رہے ہو کہ ابھی منزلِ مقصود نہیں آئی تمہارا گدھا تو اصطبل میں بندھا ہے اور تمہارا بلکہ اپنی سیکسی پر رو رہا ہے۔تم منزل مقصود پر کس طرح پہنچ سکتے ہو۔پہلے اچھی سواری لاؤ) اچھی گاڑی میں جس کو جو تو۔پھر اس میں سوار ہو کر چلو۔سفر کی صعوبتیں برداشت کر وہ تب منزل مقصود آئے گی۔اس سے پہلے منزل کی طلب کرنا نہ جماعت پر اعتراض وارد کرتا ہے۔اور نہ مخلص احمدیوں میں کوئی اخلہ مہمن جات کم کرتا ہے۔یہ تو محض اس بات کی علامت ہے کہ تم ابھی قومی ترقی کے ابتدائی اصول سے بھی آگاہ نہیں۔پہلے جد وجہد کرو، قربانیاں کرو اور وہ اشیار دکھلاؤ جو پہلی جماعتوں نے دیکھایا تھا اور پھر اس بات کی امید رکھو کہ تم وہ نتائج دیکھو گے جو پہلوں نے دیکھے تھے۔یں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں یہ نقص اس قدر عام ہے کہ عمل کی کوئی قیمت ہی باقی نہیں رہی ، صرف زبان کی قیمت سمجھی جاتی ہے۔اور سب سے بڑا لیڈر وہی سمجھا جاتا ہے جو سٹیج پر کھڑے ہو کر سب سے بڑے مقاصد کو پیش کر دے یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ عملاً اس شخص نے کوئی قربانی بھی کی ہے یا نہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ چھوٹی عمر میں میں ریل پر سفر کر رہا تھا کہ ایک بوڑھا آدمی ہمارے کمرہ میں داخل ہوا۔اس وقت لوگوں کی اخلاقی حالت کے متعلق مختلف باتیں ہو رہی تھیں ، وہ بھی ان باتوں میں شامل ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں دراز دغہ جیل رہا ہوں۔اس لئے اخلاق کے متعلق جو واقعیت مجھے ہو سکتی ہے اور کسی کو نہیں ہو سکتی۔چنانچہ اس نے بڑے بڑے قصے لوگوں کے دھوکوں اور فریبوں کے بتائے اور ساتھ ساتھ یہ کہنا چلا جائے کہ ان چالاکیوں سے ہم لوگ خوب واقف ہیں جن کا رات دن ایسے لوگوں سے تعلق رہتا ہے۔دنیا کے اخلاق بہت بگڑ چکے ہیں، دیانت جاتی رہی ہے اور ٹھگی بڑھ گئی ہے۔اس وعظ کے وقت وہ اس قدر جوش میں تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کے اخلاق کی اصلاح میں یہ شخص دیوانہ ہورہا ہے۔انہی باتوں کے دوران میں شاید میرٹھ یا سہارنپور کا اسٹیشن آگیا۔اور ٹکٹ چیک کر نیوالا