خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 237

چنانچہ میں بھی قسمت آزمائی کے طور پر چند شعر کہکہ اس مملیس میں حاضر ہوا۔اور جب میری باری آئی تو میں نے یہ شعر سنائے نفس بریگی اور اس کے بھائیوں اور اس کے باپ کو یہ شعر ایسے پسند آئے کہ انہوں نے لاکھوں۔وہ مجھے انعام میں دیا۔اور کئی خادم اور کئی گھوڑے اور کئی او نشادر چاندی اور سونے کے برتن اور غالیچے اور قالین اور عطریات کا اتنا بڑا خزانہ میرے حوالہ کیا کہ میں دیکھ کر حیران رہ گیا۔اور میں نے کہا حضور میرے گھر میں تو اس کے رکھنے کی بھی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا۔کوئی تشکر مت کہ وہ فلاں محلہ میں فلاں بڑی عمارت کو ابھی ہمارے خادموں نے تمہارے لئے خرید لیا ہے۔اور ہمارے خادم ہی یہ سب مال اسباب اس نئے محل میں ابھی بھی پہنچا دیں گے۔اس دن سے میں امراء میں شمار ہوتا ہوں۔اور مجھے یہ شعر نہایت ہی پیارے ہیں کہ انہوں نے میری حالت کو بدل دیا اور تنگی سے نکال کر فراغت سے آشنا کیا۔اس غلام نے کہا جانتے ہو کہ وہ شعر جن کی وجہ سے تم اس مرتبہ کو پہنچنے میں بیٹے کے لئے کئے گئے تھے وہ میں ہی ہوں جب میں نے یہ شعر تمہاری زبان سے سنے تو مجھے وہ واقعہ یاد آ گیا۔جو میں نے اپنی دائیوں اور کھلائیوں سے سنا ہوا تھا کہ تیری پیدائش پر ایک شاعر کو اتنا انعام دیا گیا تھا اور میں نے کہا کہ وہ بچہ جس کی پیدائش پر یہ انعام دیا گیا تھا اور جن شعروں کی وجہ سے انعام دیا گیا تھا وہ شعر آج ایک اجنبی حمام میں اس راحت و آرام سے پڑھ رہا ہے اور وہ لڑکا جس کے لئے یہ شعر کیے گئے تھے، ایک خادم کی حیثیت سے اس کا جسم مل رہا ہے۔اس شاعر پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ اس کو چپٹ گیا اور رونے لگا اور اس نے کہا کہ میری ساری دولت تمہارے باپ دادا کی دی ہوتی ہے اور یہ تمہاری ہی دولت ہے۔تم میرے گھر چلو میں خادموں کی طرح تمہاری خدمت۔کروں گا اور تمھیں کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔اس لڑکے نے جواب دیا کہ جس ذلت کو ہم پہنچ چکے ہیں وہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔اب میں اس کے ساتھ یہ مزید ذلت نہیں خریدنا چاہتا؟ کہ جو انعام میرے باپ نے دیا تھا وہ جا کر خود استعمال کرنا شروع کر دوں۔مگر چونکہ میرا راز اب کھل گیا ہے اس لئے ہمیں اب اس جگہ بھی نہیں رہ سکتا۔اب میں کسی اور علاقہ میں نکل جاؤنگا جہاں مجھے جانے والا کوئی نہ ہو اور کوئی محرم راز میری مشکل کو دیکھکر میرے آباء کی ذلت کو یاد کرے یہ کنکر وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا اور معلوم کہاں غائب ہو گیا۔دیکھو یہ ایک مثال ہے کہ باپ دادا کی عزت جبکہ اولاد اس عزت میں شریک نہ رہی اولاد کو کوئی نفع نہ پہنچا سکی بلکہ شریف اولاد کے لئے زیادہ تکلیف کا موجب ہو گئی۔بے شک کمینہ انسان اس رستہ کو چھوڑ کر جس پر چل کر اس کے آباء نے عزت حاصل کی تھی فخر کرتا ہے۔مگر وہ اس سے صرف اپنی کمینگی کا انظباء کرتا ہے ورنہ شریف انسان تو اس واسطہ کو مٹا دیتا ہے۔اسے چھپا دیتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے