خطبات محمود (جلد 2) — Page 235
۲۳۵ گندہ اور ذلیل وجود ہوں کہ میرے آباد کا شہرت اور ان کی عورت مجھے کوئی نفع نہیں دے سکتی۔بلکہ ان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا ان کی تنگ کرنا ہے اور اس نسبت سے مجھے کوئی عزت محال نہیں ہوتی بلکہ میری ذلت بڑھ جاتی ہے کہ قرآت کا سامان موجود ہوتے ہوئے میں نے ذلت کو اپنے لئے قبول کر لیا۔یہی مثال دوسرے اخلاق کی بھی ہے خواہ وہ دین کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا سیاست کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔یا اقتصادیات کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا صنعت و حرفت کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں یا تجارت کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے عورتیں دو قسم کا ہیں اور ان کے مقابلے میں خوشیاں بھی دو قسم کی ہیں۔ایک وہ جو باتی ہوتی ہیں اور ایک خوشی وہ جو ورثہ میں ملتی ہے۔ذاتی خوشی تو ہر حال خوشی ہوتی ہے مگر جو نہ منشی در شه میں ملتی ہے وہ مقید ہوتی ہے۔جب تک اس کے ساتھ ذاتی خوشی شامل نہ ہو۔وہ کار آمد نہیں ہوتی ملکہ بسا اوقات ذلت اور رسوائی کا موجب ہو جاتی ہے انسانی فطرت کے اس مطالعہ کے بعد اب ہمیں اپنی دونوں عیدوں پر غور کرنا چاہئیے کہ وہ نہیں کیا سبق دیتی ہیں کہ جب تم ان دو عیدوں کو تین میں سے ایک ہمارے ملک میں چھوٹی عید کہلاتی ہے اور دوسری بڑی عید کہلاتی ہے۔دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام تو اپنی تعلیمات میں مقام ضروری احکام پرشتمل ہے اور تمام اچھے عناصر پر حاوی ہے۔اس نے فطرت کے اس تقاضا کو بھی ان دونوں عیدوں کے ذریعہ سے ظاہر کیا ہے۔مثلاً چھوٹی عید کو دیکھو۔اس عید سے پہلے ہم روزے رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے بعد ہم ایک دن عید مناتے ہیں۔وہ عید کسی گذشتہ عزت کی یاد نہیں ہوتی۔ہمارے باپ دادا کے کسی مشرف کو نیا ہر میں کرتی بلکہ اس کا واحد مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہم نے خود اپنی ذات میں قربانی اور ایشیا کا ثبوت نہیا کیا ہوتا ہے اور اپنی قربانی کے ساتھ اپنے رب کو خوش کیا ہوتا ہے۔پھر دوسری عید کو بعد لیتے ہیں جو بڑی عید کہلاتی ہے۔اس عید کے دن یا اس سے پہلے تم نے اپنی ذات میں کوئی کام نہیں کیا ہوتا۔کوئی خاص عبادت ہم نے نہیں کی ہوتی۔کوئی خاص تکلیف ہم نے نہیں اُٹھائی ہوتی۔نام دنوں کی طرح ایک دن ہوتا ہے اور ہم اس دن کیدم عید کا اعلان کرتے ہیں۔کیوں ؟ اس لئے کو ہزاروں سال پہلے اس دن ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ایک عظیم الشان کام مصادر ہوا تھا اور اسے ایک خوشی پہنچی تھی اور چونکہ وہ ہمارا روحانی باپ تھا اور ہمارے روحانی باپ کا باپ تھا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمہ کا ، ہم اس دن نور اپنے کپڑے پہن کر یا دھنتے ہوئے بات کپڑے پہن کر گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت اکیلے اکیسے اور کٹھے بو کر میدان کی طرف جانا شروع کر دیتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک کا دل خوش ہوتا ہے۔اس لیئے