خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 229

۲۲۹ ہی نہیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی خدا تعالے کے سامنے پیش کیا جارہا ہوگا۔اور خدانانی ان تمام ترقیات کے نظارے آپ کو دکھا رہا ہو گا جو تیرہ سو سال میں آپ کو اور آپ کی امت کو حاصل ہوئیں۔اور کہتا ہوگا اسے ہمارے سول تیری مکہ کی تکالیف بے شک بہت بڑی تکالیف تھیں۔بے شک مدینہ کے مصائب بہت بڑے مصائب تھے۔مگر بتا تو سہی کہ ان قربانیوں کے نتیجہ میں ہم نے تیرے ہاتھوں سے جو علوم اور عرفان کے دریا بہا دیتے اور دنیا میں حیرت انگیز انقلاب پیدا کر دیا یہاں تک کہ بہت وذلت کے گڑھے میں گرتی ہوئی تو میں تیری تعلیم پر عمل کر کے دنیا کی بادشاہ بن گئیں، کیا اس انقلاب اور ان عظیم الشان الغابات کے مقابلہ میں یہ قربانیاں کوئی بھی حقیقت رکھتی ہیں۔اور محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح محبت کے ساتھ آستانہ الٹی پر جھکتے ہوئے یہ کہتی ہوگی کہ اسے خدا نہیں میری قربانیاں ان العاموں کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں اسی طرح آج بدر کے شہداء اور اُحد کے شہداء جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو بہ پہلو لڑتے ہوئے خدا تعالے کی راہ میں جان دی مین کے گھروں میں اس وقت آہ و فغاں سے ایک کہرام مچ گیا تھا تبن کی موت نے ان کے رشتہ داروں کے قلوب کو غم و اندوہ کے جذبات سے پہر یہ کر دیا تھا ان کی روحوں کو آج خدا تعالے اپنے دربار میں کا بڑا کر کے بتا رہا ہوگا که دیکیوں تمہاری قربانیوں نے کیسے میٹھے پھل پیدا کئے اور انہوں نے اسلام کی کھیتی کو کس طرح ہرا بھرا کر دیا اسی طرح وہ ہزاروں نہیں لاکھوں رو میں جو دنیا میں خدا کارٹی کے جذبات لئے ہیں جنہوں نے قربانیوں کے بعد نوار تورفان حاصل کیا اور سمادی برکات سے برہ یاب ہو نہیں۔اللہ تعالے انہیں اپنے سامنے بلاتا ہوگا اور کہتا ہوگا اے میرے بندو ! کیا تمہاری قربانیاں رائیگاں گئیں اور کیا ان انعامات کے بدلہ میں جو میں نے تم پر کئے تمہاری قربانیاں کوئی بھی حقیقت رکھتی ہیں۔اور وہ محبت سے اللہ تعالے کی بارگاہ میں گرتے ہوئے یہ کتنے ہوں گے کہ اسے ہمارے رب ! ہماری قربانیاں تو کچھ بھی نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی انسان کو سبق دیتا ہے مارا مستقبل صرف وانا کو سبقی دنیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالے فرماتا ہے کہ جب فتح ہوئی اور اسلامی لشکر غنیمت کے اموال لے کر واپس لوٹا تو منافقوں نے بکریوں اور بھیڑوں کی پیٹھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔کیونکہ جب فتح ہو جاتی ہے تو منافق بھی اخامات میں شریک ہو جاتے ہیں۔مگر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف مومن ہی قربانی کرتا ہے اور وہی قربانی اللہ تعالے کے حضور قبول ہوتی ہے۔کیونکہ وہ ایسے وقت میں قربانی کرتا ہے جب لوگ کہتے ہیں کہ یہ قربانی صنائع ہو گئی۔جب دنیا اس کی تکلیفوں پر ہنس رہی ہوتی ہے۔جب دنیا قربانیوں کو رائیگاں تصور کر رہی ہوتی ہے۔جب دنیا اُسے پاگل اور مجنون کہہ رہی ہوتی ہے۔وہ خدا تعالے کے ذکر کو جیت کرنے اور اس کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے را ندان