خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 220

۲۲۰ ان کے پیچھے آئیں اور کہا۔ابراہیم ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا تم اب جاہی رہے ہو، اور تمہارا واپس آنے کا ارادہ نہیں۔حضرت ابراہیم نے جذبات کی شدت کی وجہ سے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔کیونکہ جب کسی نے اپنے جذبات کو دبایا ہوا ہو اور وہ بات کرے تو اسے رونا آجاتا ہے۔حضرت ہاجرہ نے جب دیکھا کہ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔تو انہوں نے پھر کیا۔ابراہیم با تم توکہیں جار ہے ہو حضرت ابراہیم نے پھر بھی جواب نہیں دیا۔انہیں اس پر اور زیادہ شبہ پیدا ہوا۔اور وہ اور زیادہ اصرار سے پوچھنے لگیں۔ابراہیم تم ہمیں کہاں چھوڑ کر جارہے ہو۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا۔چونکہ ابھی تک حضرت ہاجرہ کو یہ معلوم نہ تھا کہ انہیں خدا کے حکم کے ماتحت یہاں چھوڑا گیا ہے یا دوسری سوت کی ناراضگی کی وجہ سے۔اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چند بات رحم کو اپیل کرتے ہوئے کہا۔کہ ابراہیم بغیر کھانے اور پینے کے کسی سامان کے تم اس جنگل میں چھوڑا کہ ہمیں کہاں جا رہے ہو۔مگر انہوں نے پھر بھی جواب نہیں دیا۔اس پر حضرت ہاجرہ کو خیال پیدا ہوا کہ کہیں ابراہیم کا یہ فعل خدائی حکم کے ماتحت نہ ہو۔اس لئے انہوں نے پو چھا۔اے ابرہیم کیا تم خدا کے حکم کے ماتحت نہیں یہاں چھوڑے جارہے ہو۔حضرت ابراہیم پھر بھی اپنے جذبات کی شدت میں اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔مگر انہوں نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھا کر اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہاں خدا کے حکم کے ماتحت میں تمہیں یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں تب حضرت ہاجرہ اسی وقت لوٹ آئیں اور کہنے لگیں اِذن لا يضيعنا۔اگر خدا نے یہ حکم دیا ہے تو پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔جب ابراہیم علیہ السلام ہاجرہ اور اسمعیل کی نظروں سے اوجھیل ہو گئے۔تو ان کے جذبات جوش میں آگئے اور انہوں نے خدا تعالے کے حضور ہاتھ اُٹھا کر عرض کیا کہ اے میرے خدا! میں اپنی بیوی اور بچے کو تیرے سپرد کر چلا ہوں۔اب تو خود ان کی حفاظت فرمائیں ادھر کچھ دنوں کے بعد وہ پانی جو ایک مشکیزہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام دے گئے تھے۔ختم ہوگیا۔کھجوریں ختم ہوئیں یا نہیں اس کے متعلق اس وقت تاریخی شہادت یاد نہیں جب پانی ختم ہوا تو بچے نے پیاس کی شدت میں رونا اور بلبلانا شروع کر دیا۔ہاجرہ دوڑتی ہوئی کبھی پھر جائیں اور کبھی ادھر اور نظر دوڑا ہیں کہ شاید کوئی شخص ایسا نظر آجائے جس کے پاس پانی ہو مگر وہاں تو میلوں میل تک کوئی پانی نہ تھا۔اور پانی کا خیال کرنا بھی ایک دہم تھا۔حضرت ہاجرہ لوٹ کر آئیں تو اپنے بچے کو روتا تڑپتا دیکھکہ پھر ادھر اُدھر بھا گئیں کہ شاید پانی مل جائے۔مگر کہیں سے پانی دستیاب نہ ہوا۔آخر جب بچے کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی اور انہوں نے سمجھا کہ ایک شدت پیاس سے دم توڑ رہا ہے تو وہ دو پہاڑیاں جن کے پاس انہوں نے اپنا ڈیرہ