خطبات محمود (جلد 2) — Page 219
۳۱۹ ہماری طبیعت پر چلا جاتا ہے۔مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے بچے تھے تو ایک دفعہ ہماری ہمشیرہ مبارکہ کو لڑکیوں نے کھیلتے ہوئے ایک طاقچہ میں بند کر دیا اور خود ادھر کھیل میں مشغول ہو گئیں۔اپنے آپ کو ایک طاقچہ میں بند دیکھیکہ وہ رونے لگیں اور کافی دیر تک روتی رہیں مگر وہ لڑکیاں چلی گئی تھیں اس لئے کسی نئے روازہ نہ کھولا۔کچھ وقت گزرنے کے بعد اتفاقاً وہاں سے ایک شخص گذرا اور اسے جب معلوم ہوا کہ اندر کوئی لڑکی رو رہی ہے تو اس نے دروازہ کھولا اور یہ باہر نکل آئیں۔مجھے یاد ہے اس واقعہ کا سالها سال تک ہماری والدہ صاحبہ کے دل پر اثر رہا۔جبکہ ایک دفعہ دس بارہ سال کے بعد میں نے والدہ سے سنا کہ وہ کہ رہی تھیں میرا دل گھٹ رہا ہے۔اور جب میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے تو فرمانے لگیں مجھے اس واقعہ کا خیال آگیا ہے جب لڑکیوں نے مبارکہ کو طاقچہ میں بند کر دیا تھا۔اب ہماری ہمشیرہ زندہ سلامت بھی نکل آئیں۔مگر دس بارہ سال کے بعد بھی جب ہماری والدہ صاحبہ کو اس کا خیال آیا تو ان کا دل گھٹ گیا۔اور فرمانے لگیں کہ مجھے یہ خیال آرہا ہے کہ اس وقت وہ اپنے دل میں کیا کہتی ہوگی کہ میں اندر ہی مرجاؤں گی اور مجھے کوئی نکالنے والا نہیں آئے گا۔تو ہمارا بچہ اگر ایک معمولی مصیبت میں بھی گرفتارہوتا ہے تو کئی سالوں کے بعد جب ہمیں اس کی یاد آتی ہے تو تمہارا دل گھٹ جاتا ہے۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت آکھیل کو ایک ایسے جنگل میں چھوڑا جس کے گرد منزلوں تک کوئی پانی نہیں تھا جس کے گرد منزلوں تک کوئی کھیتی نہیں تھی۔جس کے گرد منزلوں تک کوئی قافلہ نہیں گزرتا تھا۔اور جس کے گرد منزلوں تک کوئی آدمی نظر نہیں آتا تھا، وہاں تغیر ابراہیم حضرت ہاجرہ کو اور اپنے اکلوتے بیٹے کو جو بڑے چاؤ کے بعد بڑھاپے کی عمر میں پیدا ہوا تھا چھوڑ دیتے ہیں۔اور اس بچے کو چھوڑ دیتے ہیں جس کے متعلق خدا تعالے کی طرف سے یہ خبر دی گئی تھی کہ تیری آئندہ نسل کی برکت اور عظمت اس کے ذریعہ قائم ہوگی۔پھر ان کے پاس کوئی کھانے کا ذخیرہ نہیں کوئی پانی کا ذخیرہ نہیں۔ایک مشکیزہ پانی کا تھا جو جو نہیں گھنٹے سے زیادہ نہیں چل سکتا تھا اور ایک تھیلی کھجوروں کی حضرت ہاجرہ کے لئے تھی۔جو دو تین دن سے زیادہ کے لئے کافی نہیں ہو سکتی تھیں۔یہ دو چیزیں انہوں نے حضرت ہاجرہ اور آسھیل کے پاس چھوڑیں اور انہیں اس بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ کر واپسی لوٹے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے صابر تھے۔انہوں نے صبر کیا۔اور اپنے جذبات کو دبایا۔مگر پھر بھی حضرت ہاجرہ کو ان کی بعض حرکات سے پتہ لگ گیا۔کہ یہ اب ہمیشہ کے لئے تمہیں یہاں چھوڑ کر چلے ہیں۔دراصل انہوں نے حضرت ہاجرہ کو بتایا نہیں تھا کہ میں تمھیں یہاں چھوڑ کر چلا ہوں تا انہیں صدمہ نہ ہو۔جب وہ انہیں وہاں بٹھا کر جارہے تھے تو حضرت ہاجرہ کو شبہ پیدا ہوا اورہ