خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 206

۲۰۶ اس سے فائدہ نہ اٹھایا اسے چھونے والا جسم دیا گیا مگر اس نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔خدا کی محبت کی شیرینی اس کے سامنے پیش کی گئی مگر یہ بدبخت دنیا کا منظل کھاتا رہا مگر اس شیرینی سے اس نے مولہ پھیر لیا۔مگر اس کا خدا اس سے پھر بھی مایوس نہیں ہے۔دیکھو وہ کس شان سے اپنے آخری کلام میں فرماتا ہے کہ انسانوں نے میرے نبیوں کا انکار کیا لیکن ان کے انکار نے تجھے نبی بھیجنے سے باز نہیں رکھا۔میں اب بھی نبی بھیجتا ہوں اور نبی بھیجتا رہوں گا۔وہ ماننے سے انکار کرتے جائیں میں جانے سے نہیں ہٹوں گا اور آخران کو کھینچ ہی لاؤں گا۔کیونکہ میں نے ان کو اپنی عبودیت کے لئے پیدا کیا ہے اور میری حسیت کا گھر اپنے مکین کے بغیر ویران پڑا ہے۔خواه و ه براہ راست آکر اس گھر کو آباد کریں یا دوزخ کے ہسپتال میں سے گزر کر آئیں مگر ہر حال انہیں میرے ہی پاس آنا ہو گا۔اور ہیں انہیں اپنے پاس لا کر ر کھے بغیر نہیں رہوں گا۔یہ ہے ہمارا محبت کرنے والا خدا۔ابراہیم نے بڑی نرم دلی دکھائی مگر ابراہیم کے نرم دل کو پیدا کرنے والا بھی ہمارا خدا ہی تھا۔پس تمام رحم اسی سے ہے اور تمام خوبیاں اسی کی طرف سے ہیں۔کوئی حسن نہیں ہے جو اس کی طرف سے نہ آتا ہو۔سب نیکی اسی سے ہے اور سب نیکی سی کی طرف جاتی ہے۔وہ ایک ہے اور باقی سب ایک افسانہ ہے اور کوئی افسانہ بغیر ایک مرکزی نقطہ کے قائم نہیں رہتا۔پس جب تک ہمارا افسانہ اس نقطۂ مرکز ی سے وابستہ ہے وہ ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ ہے جب وہ اس سے جدا ہو جائے وہ ایک خیالی افسانہ ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں۔جس کے لئے کوئی دوام نہیں۔پس کوشش کرو کہ تمہاری زندگیاں ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ نہیں جس طرح ابراہیم کی زندگی ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ بن گئی۔اور اپنے آپ کو خدا سے دور کر کے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے اپنی زندگیوں کو صرف کر کے ایک بے معنی اور لغو وجود مت بناؤ کیونکہ دائمی نہ زندگی ہی اصل زندگی ہے۔اور وہ چیز جو آئی اور ختم ہو گئی محض ایک حیوانی زندگی کا مظاہرہ ہے جس طرح کتنے کے مرنے سے دنیا میں کوئی تغیر نہیں ہوتا، اسی طرح اس انسان کے مرنے سے بھی کوئی تغیر نہیں ہوتا جس کی نہ ندگی ابراہیم کی طرح خدا کے نور کے گرد پروانہ وار چکر نہیں لگا رہی ہوتی۔اللہ تعالے نہیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم اس عید سے سبق حاصل کریں اور ہمارے دل اس کے آستانہ محبت کے گرد لبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ : لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، کہتے ہوئے اس وقت تک گھومتے رہیں جب تک کہ مشمع پر دانے کو جلا کر اپنے نور میں غائب نہ کر دے اور ہمارا وجود لا شريك لك كی ببین دلیل نہ ہو جائے۔اس کے اجہ میں دعا کرتا ہوں۔دوست اس میں شامل ہو جائیں لیکن یہ یاد رہے کہ چونکہ