خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 194

۱۹۴ آج ہمارے زمانہ میں عدالتوں کا رنگ ایسا ہے کہ ان میں جھوٹ خوب چلتا ہے اور یہ شخص سچائی پر قائم رہے اسے ہر وقت یہ خطرہ رہتا ہے کہ وہ مشکلات میں پڑھائے گا۔پس اگر تم عمد کر لو کہ تم نے سچائی پر چلتا ہے تو تمہیں نظر آجائے گا کہ تمہارے لئے قربانی کے رستے کھل گئے ہیں۔مگر اس کے علاوہ بھی قربانی کے کئی رستے ہیں۔اخلاقی طور پر اپنے نفس امارہ کو مار دنیا بھی قربانی ہے۔دین کے مطالبات پورے کرنا بھی قربانی ہے۔اور چونکہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ابراہیمی فیضان کا عام چھینٹا دنیا پر پڑا ہے۔اس لئے اب اپنے اپنے ظرف کے مطابق ہزاروں اسمعیل است محمدیہ میں پیدا ہو سکتے ہیں۔پہلے ابراہیم کی نسل سے صرف ایک اسمعیل پیدا ہوا۔مگر یہ ابراہیم چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بروز اور ساری دنیا کی طرف مامور ہے اس لئے ہزار ہا اسمعیل اس کے ذریعہ پیدا ہو سکتے ہیں صرف ارادہ کی دیر ہے اسی طرح آج ہزاروں عورتیں ہاجرہ بن سکتی ہیں بشرطیکہ وہ اس بات پر یقین اور ایمان رکھیں کہ ہمارا پیشوا ایک ایسے آقا کا خادم ہے جس کے ساری دنیا کی طرف مبعوث ہونے کی وجہ سے اس کے فیضان کا دائرہ بہت وسیع ہے یے پس میں جماعت کے نوجوانوں کو آج توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اسماعیلی رنگ میں رنگیں کریں۔اور ہر قسم کی قربانیوں کے لئے تیار رہیں۔خواہ وہ اخلاقی ہوں یا جسمانی یا مالی۔یاد رکھو اسلام کا درخت قربانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔اگر تمہاری خواہش ہے کہ اسلام ترقی کرے۔تو اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کرو اور وہ تمام قسم کی قربانیاں کرو جو تم سے پہلے کسی امت نے دنیا میں کی ہوں۔کیونکہ جس طرح اسلام جامع کمالات متفرقہ ہے اسی طرح ضروری ہے کہ اس کے متبعین کی قربانیاں بھی تمام امتوں کی متفرق قربانیوں کی جامع ہوں۔پھر خدا تعالے بھی اسی طرح ان قربانیوں کی یاد دنیا میں قائم رکھے گا جس طرح اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادت ئم رکھی۔جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی کی معنی اس وقت کون کر سکتا تھا کہ ساری دنیا اسے یاد رکھے گی۔مگر خدا تعالے نے اسے قائم رکھا اور اس قربانی کی یاد دنیا سے مٹنے نہ دی۔پس یہ مت سمجھو کہ تمہاری قربانیاں کوئی کیا تمہاری قربانیوں کو آسمان پر دیکھنے والا خدا موجود ہے اور وہ انہیں دنیا سے مٹنے نہیں دے گا۔اول تو جس شخص کے دل میں قربانی کا صحیح جذبہ ہو وہ یہ نہیں دیکھا کرتا کہ مجھے کوئی دیکھنے والا ہے یا نہیں لیکن اگر کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو تو میں اسے کہتا ہوں۔ابراہیم کی قربانی کس نے دیکھی تھی۔کیا اس وقت وہاں کوئی مورخ موجود تھا یا الف فضل تھا جس میں یہ واقعہ لکھا گیا۔خدا نے آسمان پر اسے دیکھا اور کہا میں اس قربانی کو نہیں پھلاؤں گا اور