خطبات محمود (جلد 2) — Page 144
۱۴۴ میں سمجھتا ہوں اب ضروری ہے کہ یک لخت تو نہیں ، تھوڑا تھوڑا کم کرتے ہوتے ہیں نماز کو ٹھیک وقت پر لانا چاہیئے۔عید کے ایام آپس میں ملنے جلنے کے لئے ہوتے ہیں۔اگر عید کے دن صبح کی تیاری طبی ہو جائے اور پھر نماز اور خطبہ ہو تو آدھا دن تو اسی میں خرچ ہو جائے گا۔اور باقی وقت قربانی کرنے اور کھانے پینے میں لگ جائے گا۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشاء یہ ہے کہ عید کے دن باہمی تعلقات بڑھائے جائیں شیشہ دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ عید در حقیقت اس بات کا نشان ہے کہ ہم میں اپنی قربانیاں کسی مقصد کو مد نظر رکھکر کرنی چاہئیں۔اور پھر جب کوئی خاص مقصد سامنے ہو تو کسی قربانی سے در یخ نہ کرنا چاہیئے۔دوسری چیزوں کی طرح اسلام نے قربانی میں بھی اصلاح کی ہے ، باقی مذاہب کی بعض قربانیاں بظاہر بہت خوبصورت نظر آئیں گی لیکن وہ در حقیقت بالکل لغو اور بے فائدہ ہونگی عبادت کے متعلق بعض قوموں میں ایسی قربانیاں پائی جاتی ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں مثلا بعض لوگ الٹے لٹکے رہتے ہیں ہے۔میں نے خود ایک شخص کو دیکھا جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ گیارہ سال سے مسلسل چھت سے ٹانگیں باندھ کر لٹکا ہوا ہے رات کے وقت وہ ہاتھ زمین پر یک لیتا تھا۔اور یہی اس کا سونا تھا۔میں نے خود تو نہیں دیکھا لیکن کہتے تھے وہ اسی طرح آٹا گوندھنا اور روٹی بچاتا ہے۔جب ہم گئے اس وقت وہ آٹا گوندھنے کی تیاری کر رہا تھا۔لوگ دُور دُور سے اس کی زیارت کو آتے تھے اور وہ بہت بزرگ سمجھا جاتا تھا۔بظاہر تو یہ بہت بڑی قربانی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کیا۔اسی طرح بعض لوگ سورج کی طرف دیکھنا شروع کرتے ہیں اور برابر دیکھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ غائب ہو جائے لیے پھر بعض سردیوں کے موسم میں مرد پانی میں کھڑے رہتے ہیں لے اور بعض گرمیوں میں ارد گرد آگ جلا کر بیٹھے رہتے ہیں وہ یہ سب کچھ کر تب اور تماشا تو بے شک ہے لیکن دنیا کھیا ایسی مشقت اٹھانے والے کی ذات کو اس سے کیا فائدہ ہوا۔اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ قربانی وہ ہے جس کا نفع تمہاری ذات کو یا دنیا کو پہنچے۔پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ قربانی وہ ہے جس نے خدا کو نفع پہنچے اور اسی خیال کے ماتحت لوگ ایسی ایسی تکالیف اُٹھاتے اور سمجھتے تھے کہ اس طرح خدا کو مزا آتا ہے۔وہ خدا کے مزے کو بھی ایسا ہی سمجھتے تھے جیسا کہ حضرت خلیفة المسیح الا قول رضی اللہ عنہ ایک امیر زادہ کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ باپ کے مرنے کے بعد جب اسے تین لاکھ روپیہ ملا تو وہ دوستوں میں میٹھے کر مشورہ کرنے لگا کہ اسے کس طرح خرچ کیا جائے۔وہ بازار میں گیا اور بزاز کو کپڑا پھاڑتے دیکھا۔اس کے کان میں چرچہ کی آواز جو آئی تو اسے بہت پھیلی معلوم ہوئی۔اور اس نے دوستوں سے آکر کہا۔مجھے روپیہ حشریح کرنے کا بہت اچھا مصرف معلوم ہو گیا ہے اور نوکروں کو حکم دے دیا کہ کپڑوں کے تھان لا لاکر انھیں پھاڑتے رہو اور اس طرح ایک دن میں وہ چار پانچ سو کا کپڑا دھجیاں کر کر کے ضائع کر دیتا یہ نہیں تکالیف اٹھانے