خطبات محمود (جلد 2) — Page 6
خدا کے لئے قربانی نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو یقین نہیں ہوتا کہ ہمارا کوئی رب ہے جو خالق اور رازق ہے۔اور وہ دنیا کی حکومتوں کو خالق اور رازق سمجھتے ہیں اس لئے ان کے لئے تو جان دیتے ہیں لیکن خدا کے لئے کچھ نہیں کرتے۔قربانی اللہ تعالے کے قرب کا ذریعہ ہے یہ اس لئے اللہ تعالے چاہتا ہے کہ میرے بندے کچھ کر کے دکھا ئیں تب میں انہیں اپنا مقرب بناؤں۔جو شخص اللہ کے لئے اپنے نفس کو قربان نہیں کرتا۔وہ اگر یہ دعوی کرے کہ مجھ میں خدا کی محبت ہے تو وہ جھوٹا ہے اس کو نہ خدا سے کوئی محبت ہے اور نہ کوئی تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اسے مومنو! تم سارے کے سارے پورے طور پر سلمان جو جاؤ اور اسلام کی تابعداری کا جوا اپنی گردنوں پر رکھ لو۔یا اسے مسلما نو ! تم ساری فرمانبرداری کی راہیں پوری کرو۔اور کوئی بھی فرمانبرداری کی راہ نہ چھوڑو۔یہ قربانی ہے جو اللہ تعالے ہر ایک مومن سے چاہتا ہے کہ انسان اپنی تمام آرزوؤں۔تمام خواہشوں ، تمام اُمنگوں اور تمام امیدوں کو خدا کے لئے قربان کر دے اور اس طرح نہ کرے کہ جو اپنی مرضی ہو وہ کرے اور جو نہ ہو وہ نہ کرے یعنی اس طرح کہ اگر شریعیت اس کو کچھ حق دلاتی ہو تو کہے کہ میں شریعت پر چلتا ہوں اور اسی کے ماتحت فیصلہ ہونا چاہیئے۔لیکن اگر شریعت اس سے کچھ دلوائے تو کہے کہ قانون کی رو سے فیصلہ ہونا چاہئے۔قانون کچھے نہیں دلواتا۔اس لئے لیکن بھی کچھ نہیں دیتا۔ابھی ایک معاملہ ہوا ہے۔ایک شخص سے جب ایک چیز مانگی گئی تو اس نے کہا میں بے خبر نہیں بیٹھا رہا۔میں نے نے خوب اچھی طرح دریافت کر لیا ہے کہ قانونا میں اس چیز کا مالک ہوں۔چونکہ شریعت کی روسے اسے اس چیز کے رکھنے کا کوئی حتی نہیں اس لئے وہ قانون کی آڑ لے کر بیچنا چاہتا ہے اور یہ نفس پرستی ہے کیونکہ وہ نفس کی خاطر دین اور ایمان کو بیچتا ہے اور قانون کی پناہ لیتی چاہتا ہے۔قانون کی هستی ہی کیا ہے ؟ یہ تو صرف انسانی عمر تک نہی ہوتا ہے۔لیکن خدا کا قانون عینی شریعت ابدال آباد تک کے لئے ہے جو کوئی ظلم سے دوسرے کا حق لیتا ہے اور خواہ اس کے لئے کوئی وجہ تراشتا ہے وہ کبھی خدا تعالے کی عقوبت سے نہیں بچ سکتا۔اور ایسا شخص هرگز ایماندار نہیں ہے کیونکہ وہ خدا کے لئے قربانی نہیں کرتا۔ہر ایک مسلمان کے دل میں کسی معاملہ کے تصفیہ کے وقت جو سب سے پہلے خیال پیدا ہونا چاہیے وہ یہ ہونا چاہیئے کہ شریعیت کیا کہتی ہے اور مجھے کسی چیز کا حقدار قرار دیتی ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں دیتی تو قانون اگر دلوائے تو بھی نہیں لینی چاہیئے۔کیونکہ خدا کے نزدیک یہ لینا جائز نہیں۔مومن کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ اگر قانون نہ بھی دلوائے اور شریعت دلوائے تو فورا دے دینا چاہیئے۔جس میں یہ مادہ نہیں وہ مسلمان ہی نہیں۔مومنوں کو فرمانبرداری کا ہر ایک پہلوا اور ہر ایک رنگ۔زیر نظر رکھنا چاہیے۔