خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 117

رہ جائے۔مد نظر یہ بات ہونی چاہیئے کہ جہاں اخلاق اور دینی تربیت کا سوال ہوگا، وہاں اولاد کے آرام و آسائش کا خیال نہیں کریں گے۔اور خدا تعالے کی شان اور عظمت ان کے دنوں میں بٹھانے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔جو لوگ ایسا کریں ان کی اولاد نہیں جراتی بد محبت سے ہی بگڑے تو بگڑے ورنہ نہیں بگڑ سکتی۔اور اگر سارے مسلمان اپنی اولاد کی اصلاح کریں تو پھر بری صحبت ہی نہ رہے گی۔یکی نہایت اختصار کے ساتھ اس بات کی طرف اپنی جماعت کے لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس اہلی اصلاح کی طرف توجہ کریں جو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے ذریعہ قائم ہوئی۔اس کے بعد محمدی دور شروع ہوتا ہے۔کیا یہ حبیب بات نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دور شروع ہوا اور پھر محمدیت کار در آیا۔مگر ابھی تک لوگ آدمیت کا دور ہی طے کر رہے ہیں۔حضرت آدم کے وقت آدمیت کا دور شروع ہوا تھا یعنی ، انسان کی ذاتی اصلاح کا دورہ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دور آیا جو اہلی اصلاح کا دور تھا۔یعنی اپنے اہل کی اصلاح کی فکر کرنا۔پھر محمدی دور آیا جو ساری دنیا کی اصلاح کا دور ہے۔مگر افسوس ہے۔ابھی تک اہلی دُور بھی طے نہیں ہوا۔بہت لوگ ہیں جو اپنے بچوں کی دینی اصلاح کو مدنظر نہیں رکھتے۔ایسے بچوں کی پھر ضرورت ہی کیا ہے ؟ ان کی بجائے دینے پال چھوڑو۔پس میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنی اولادوں میں اخلاق حسنہ اور قومی روح پیدا کریں اور انہیں دین کے خادم بنائیں ، اس وقت سے زیادہ کبھی اسلام کو خادموں کی ضرورت نہیں پڑی۔آج بہت نازک حالت ہے ، تمام دنیا اسلام کے خلاف کھڑی ہے۔اگر ہماری اولاد کے دلوں میں اسلام کی محبت او رالفت نہ ہوگی وہ اسلام کی شیدائی نہ ہو گی تو ہماری ساری کوششیں ضائع ہو جائیں گی یہ اور دشمن اپنے انتظام کی قوت اور رو سے مسلمانوں کو اس طرح اُڑا دے گا جس طرح آندھی خس و خاشاک کو اُڑا لے جاتی ہے ایسی حالت میں اسلام کی حفاظت کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنی اولاد میں اسلام کی محبت پیدا کریں۔پہلے زمانہ میں انسانوں کی جو قربانی کی جاتی تھی ، وہ غلط نہی کا نتیجہ تھی۔اس وقت اس سے مراد یہ تھی کہ انسانی جذبات کی قربانی کی جائے ، ان کو مار دیا جائے۔اس طرح انسانوں کی تربیت کی جاتی تھی۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت خدا تعالے نے اس طریق کو بدل دیا اور پھر یہ رکھا کہ بہیمیت بھی کچھ قائد یکھی جائے اور باوجود اس کے اطلاق کی نگرانی کی جائے۔یہ اعلیٰ درجہ کی ترقی کا دور تھا۔مگر افسوس ہے ہماری جماعت کے لوگ اولاد کی