خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 99

49 کیا جاتا ہے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ مشیل موسی کی ترقی جلد ہوتی ہے اور مشیل میلے کی بتدریج۔اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مشیل عیسی ہیں، اس لئے آپ کے سلسلہ کی ترقی بھی آہستگی کے ساتھ ہوتی ہے اور جب ترقی آہستگی کے ساتھ ہوتی ہے تو عیسوی سلسلے کی طرح اس کی قربانی بھی آہستہ آہستہ ہوگی جو آہستہ آہستہ بڑھتی رہے گی۔اس وجہ سے ضروری ہے کہ مالی قربانی میں دن بدن اضافہ ہو۔اسی طرح وصیت کا حصہ ہے۔اس کے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ یونہی اس کی شرح بڑھائی جا رہی ہے۔مگر اس کے متعلق بھی سوچنا چاہیئے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت وہ شرح نہیں تھی جواب ہے اور جس پر لوگ میتیں کر رہے ہیں تو یہ بھی اسی اصل کے ماتحت ہے کہ یہ ترقی آہستگی کے ساتھ ہونی تھی۔اور جوں جوں قربانیاں بڑھ رہی ہیں تزکیہ اور طہارت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور ایمانی حالت میں ترقی ہوتی چلی جارہی ہے۔جو پھر الٹ کر زیادہ قربانی کرنے کا باعث ہوتی ہے۔مجھے اگر سلسلے کی ترقی کے لئے نال زیادہ جمع کرنے کا شوق ہے تو اس سے ہماری جماعت ہی کی شان بڑھتی چلی جاتی ہے۔کیونکہ قربانی میں تی کر نے ہماری ایمانی حالت اور اخلاص لوگوں کے سامنے آتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اس درجہ پر جماعت کی حالت نہیں آئی تھی جس درجہ پر اب ہے اور جس درجہ پر کھڑے ہو کے جماعت کے عام افراد یکدم بڑی بڑی قربانیاں کر سکتے۔مگر اب جوں جوں زمانہ گذرتا جاتا ہے ایمان اس رنگ میں آتا جاتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدا کرنا چاہتے تھے۔اور گو یہ حالت قربانیوں سے ہی پیدا ہو رہی ہے جو آہستہ آہستہ ہو رہی ہیں۔مرزا جب یہ حالت پیدا ہو رہی ہے تو اس کا یہ بھی تو تقاضا ہے کہ پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی تحریک کرے پس چندہ اور وصیت وغیرہ کی شرح کا بڑھتا چلا جانا ایمانی حالت کے ترقی یافتہ ہونے کے نتیجے میں ہے گو یہ ترقی قربانیوں سے حاصل ہو رہی ہے مگر یہ ترقی قربانیوں کے لئے بھی بہت دلا رہی ہے۔کہنے والے یہ تو کہ دیتے ہیں کہ شرح چندہ بڑھائی جا رہی ہے مگر نہیں دیکھتے کہ اس طرح ان کی ایسا نی حالتوں کی تصدیق کی جارہی ہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کثرت سے مال آنے کے متعلق بھی تو ارشاد فرمایا ہے ہے کیا اگر جماعت نے اسی حالت پر رہنا ہوتا جس حالت میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہ سکتے تھے کہ کثرت سے مال آئیں گے۔حضرت صاحب کا یہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ جماعت آہستہ آہستہ ترقی کرتی چلی جائے گی اور آخر اس مقام تک پہنچ جائے گی کہ مالوں کی قربانیوں کی ان کے سامنے کوئی حقیقت نہ رہے گی۔قرآن شریف میں آتا ہے کہ دس کافروں کے مقابلہ میں ایک مسلمان کافی ہے اور مسلمانوں کو