خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 96

۹۶ لکھا ہے ان کے روزہ نہ رکھنے کی حالت کو دیکھ کر یوجنا کے شاگردوں نے حضرت مسیح کے پاس آگر اعتراض کیا کہ تیرے شاگرد روزہ نہیں رکھتے یہ حضرت مسیح نے جواب دیا۔کیا براتی جب تک دولہا ان کے ساتھ ہے اُداس ہو سکتے ہیں۔لیکن دے دن آرنیکے کہ دولہا ان سے جدا کیا جائے گا تب وے روزے رکھیں گے ہالہ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ گوان کے روزے مقرر تھے مگر اس وقت رضاء الہی اسی میں تھی کہ حضرت مسیح کے شاکر دکھائیں اور پئیں۔جو لوگ اللہ تعالے کی رضاء کے خواہاں ہوتے ہیں وہ انس بات کو جانتے ہیں کہ اس کی فضاء اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں ہے۔نہ کھانے میں اس کی رضاء ہے اور نہ فاقہ میں اور نہ اچھا پہننے میں ہے اور نہ نگا ر ہتے ہیں جس وقت اس کی رضا ہو کہ انسان کھائے اس وقت اگر انسان نہ کھائے تو مجرم ہے اسی طرح پینے کے متعلق ہے اسی طرح پہننے کے متعلق ہے کہ اگر اس کی رضاء اس میں ہو کہ انسان فلان کام کرے تو ایسا ہی کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس لئے ہر شخص کو چاہیے کہ دیکھے خدا تعالے کیا چاہتا ہے۔اور پھر اس کے مطابق کام کرے تا اس کی رضاء کا پانے والا بنے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ جارہے تھے بعض صحابہ نے روزے رکھے ہوئے تھے۔جب موقعہ پر پہنچے تو جو روزہ دار تھے وہ تو پہنچتے ہی زمین پر جا پڑے اور کچھ کام نہ کر سکے۔اور جو ہے روزہ تھے وہ کام پر لگ گئے، اور انہوںنے فورا تمام نظام کرنا شروع کر دیا۔اس طرح بے روزہ روزہ داروں سے بڑھ گئے لیے تو ہر ایک چیز کا مقام ہوتا ہے۔جس موقع پر جس رنگ میں خدا کی رضا حاصل ہو سکتی ہو اسی رنگ میں حاصل کرنی چاہیئے۔اگر آج کوئی شخص روزہ رکھ لے اور بال بچوں کو بھی رکھا دے تو وہ مجرم ہوگا۔یا اگر با وجود استطاعت رکھتے کے بجائے عمدہ کھانوں کے صرف دال پکانے تو وہ بھی مجرم ہے۔پس ایک سبق یہ ہے کہ انسان خدا کی رفتار کے موقعہ محل کو دیکھے اور پھر اس کے مطابق عمل کرے۔اگر وہ موقعہ عمدہ کھانے اور عمدہ پہننے کا ہے تو عمدہ کھائے اور عمدہ پینے کہ اس میں ہی رضاء الہی ہے۔اور اگر وہ وقت فاقہ کا ہے تو اس وقت فاقہ کرے کہ رضاء الہی اس وقتہ اسی میں ہے۔دوسرا ایک اور سبق بھی ان عیدین سے ملتا ہے۔مگر اس سبق سے بیشتر ان ہر دو کے مابه الا نیاز کو مد نظر رکھنا چاہیئے۔ایک عید کو قربانی کی عید کہتے ہیں۔جو آج ہم پہ گزر رہی ہے۔یہ عید قربانی سے پہلے ہے اور دوسری عید جو ہے وہ قربانی کے بعد ہے۔وہ روزوں کی عید کہلاتی ہے۔روزوں کی عید قربانی کے بعد آتی ہے کیونکہ روزہ رکھنا قربانی نہیں ہینگر تو آج کی عید ہے۔یہ