خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 84

آج کل جب کہ بندوقیں ہیں بہت دفعہ لوگ شکار کو جاتے ہیں۔اور خالی ہاتھ واپس آ جاتے ہیں لیکن اس زمانہ میں تو تیرا در نیزے کے ساتھ شکار کیا جاتا تھا۔اس سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ کتنی دفعہ ان کو خالی ہاتھ واپس آنا پڑتا ہوگا اور کتنے فاقے کاٹتے ہوں گے۔مگر یہ سب کچھ انہوں نے خدا کے لئے برداشت کیا۔اور خدا نے ان کو نبوت کے مرتبے پر پہنچایا۔انہی کی قربانیوں کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کی نسل میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم جیسے اولوالعزم رسول پیدا ہوئے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کتنی مشقت اٹھائی۔ابھی آپ ماں کے پیٹ میں ہی تھے ، آپ کے والد فوت ہو گئے۔پھر ا بھی اڑھائی سال کے تھے کہ والدہ کا سایہ بھی آپ کے سر سے اٹھ گیا۔پھر دادا پرورش کرنے لگے۔لیکن ابھی آپ سات ہی برس کے تھے کہ وہ نبی رحلت کر گئے شہ پھر چھا آپ کے متکفل ہو گئے۔غرض آپ کی یہ زندگی آرام سے نہیں گذری قسم قسم کی تکلیفوں اور مشقتوں میں سے آپ کا گذر ہوتارہا۔تاریخ میں لکھا ہے آپ کی چچی جس وقت بچوں میں کوئی چیز تقسیم کرنے لگتی تو نسب بچے اس کے گرد جمع ہو جاتے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الگ کونے میں خاموش بیٹھے رہتے جب سب بچے نے چکتے تو پھر وہ ان کو بھی حصہ دیتی ہے گو وہ محبت سے آپؐ کی پرورش کرتی تھیں اور آپ کو عزیز رکھتی تھیں مگر جو خوشی بچے کو اپنے گھر میں ہو سکتی ہے وہ دوسری جگہ نہیں ہو سکتی۔کیونکہ جو تعلق بچے کو اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اور جو ناز وہ ان پر کرتا ہے۔خواہ دوسرا کتنی بھی محبت کرے بچہ اس سے نہیں کر سکتا۔بے شک یہ بات بھی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وقار کی وجہ سے خاموش بیٹھے رہتے تھے۔مگر یہ بات بھی تو ہے کہ آپ اس بات کو بھی طبعا محسوس کرتے تھے کہ ان کا رشتہ وہ رشتہ نہیں جو ماں باپ کا ہوتا ہے تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو بھی خدا تعالیٰ نے با مشقت بنانے کے لئے اس قسم کے سامان پیدا کر دیئے جن میں سے آپ کو گندے نا پڑا۔یکی اپنی زندگی پر ہی غور کرتا ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ جو اب غیر مبائع ہو گئے ہیں۔میرے لئے رحمت کا موجب بن گئے۔اگر یہ لوگ میرے خلاف نہ اٹھتے اور ہمارے خاندان کو برا بھلا نہ کتنے تو میری توجہ روحانی امور کی طرف اتنی چھوٹی عمر میں نہ پھرتی۔تو ان کا وجود بھی میرے لئے روحانی ترقی کا سامان بن گیا۔یکن اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ اور اس عید سے سبق سیکھے۔اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کو عیشہ سکھ حاصل ہو۔اور آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کی عیدیں ختم نہ ہوں تو آپ اپنے بچوں کو قربان کریں۔اور ان کو دنیا کی ہر قسم کی مشقت برداشت کرنے کی عادت ڈالیں۔تاکہ وہ دین اور اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لئے کسی