خطبات محمود (جلد 2) — Page 71
فرموده ها را گست تشاء بمقام قادیا میں آج آپ لوگوں کے سامنے لمبا مضمون بیان کرنے کے لئے کھڑا نہیں ہوا جبکہ مختصر البعض باتیں بیان کرتا ہوں تا کہ خطبہ عید کی تو نور مین ہے وہ پوری ہو۔حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریق تھا کہ آپ عید کے خطبوں میں اللہ تعالے کی تسبیح وتحمید بیان فرماتے اور قیامت کے متعلق صحابہ کو توجہ دلاتے تھے لیب عید کے خطبوں میں آپ کا مضمون زیادہ تر اس بات کے متعلق ہوتا تھا کہ بعث مابعد الموت کے متعلق توجہ ہو۔اس میں نشہ نہیں کہ عید کا دن بھی بحث ما بعد الموت کے ساتھ ملتا ہے۔عید کے دن بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک قسم کا حشر ہوتا ہے حشر کے معنے اکٹھا کرنے کے ہیں۔چنانچہ عید کے دن بھی لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔حتی کہ اس دن جمع ہونے کے متعلق یہاں تک تاکید ہے۔کہ حائضہ عورتیں بھی جمع ہوں۔وہ نماز نہ پڑھیں مگر دوسروں کے ساتھ دُعا میں شامل ہوں پس یہ وہ دن ہے کہ اس دن مسلمان خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے سب جمع ہوتے ہیں ایسے جتماعوں کے متعلق رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ زینت کرنی چاہیئے اور خوشبو لگانی چاہیئے کہیے چنانچہ آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دستور تھا کہ جمعہ کے دن بعید کے دن حج کے ایام میں احرام باندھنے سے پہلے خوشہور گانے تھے یہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجمع میں تزئین کرنی چاہیئے۔اور یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ مجمع میں خوبصورت نظر آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکم میں فطرت انسانی کی ترجمانی فرمائی ہے۔لوگ میلے میں جلسوں، شادیوں میں کیوں خوشبو لگاتے ہیں اسی لئے کہ وہ اچھے نظر آئیں جب ان کی یہ خواہش ہوتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کا منشاء یہ ہے کہ اس سے اس طرف توجہ ہو کہ قیامت کے دن جہاں اگلے پچھلے سب تبع ہوں گے خوبصورت نظر آنے کی کس قدر کوشش کی ضرورت ہے۔آپ کا منشاء تھا کہ لوگ اس سفر اور اگلے جہان کے لئے تیاری کریں۔بخود یہ وہ مبارک ایام تھے جن میں حضرت مصلح موجود رضی الله نه روز ان چار ساڑھے چارگھنٹے تک قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے۔چنانچہ عید کے دن بھی حضور نے باقاعدہ درس دیا۔(الفضل ، در اگست ۱۹۲۶ ه )