خطبات محمود (جلد 2) — Page 67
کو جلا کر راکھ بنا دیتی ہے اور عمروں کے اعمال کو حبط کر کے خالی ہاتھ کر دیتی ہے۔محض گناه یا مخفی نا فرمانی تو حضرت آدم علیہ السلام کی طرف بھی منسوب ہوتی ہے۔کیوانی نا فرمانی کہتے ہیں محکمہ کے نہ مانے کو۔سو وہ تو حضرت آدم علیہ السلام سے بھی ہوتی ہے اور ابلیس کی تاریت بھی نافرمانی منسوب ہوئی۔میکے فرق کیا ہے ؟ جس سے حضرت آدم علیہ السلام تو با د بود نا فرمانی کے مقرب اور محبوب ہے اور ابلیس ہمیشہ ہمیش کے لئے مردود اور متروک ہو گیا۔فرق صرف یہی ہے که حضرت آدم علیہ السلام سے نافرمانی سرزد ہوئی مگر نسیان سے اعمد ا نہیں، ابا سے نہیں، بستگیا۔سے نہیں۔اور ابلیس سے نافرمانی ہوئی اباء سے اور استکبار سے نہیں یک مسلمان اگر نماز نہیں پڑھتا مگر اندر ہی اندر نادم ہوتا ہے اور نماز کا انکار تو نہیں کرتا بلکہ اپنی نشستی اور غفلت کا اقبال کرتا ہے۔اور کسی کے پوچھنے پر شرمندگی سے سر نیچا کرلیتا ہے گردن ڈال دیتا ہے اور خاموش ہو جاتا ہے تو وہ مومن ہے اور مسلمان ہے لیکن اگرا باد کرتا استکبار دکھاتا اور اپنے گناہ پر مصر ہے اور اسے مستحسن سمجھتا ہے تو وہ ایمان سے حنا ر ن ہو جائے گا۔محض گناہ انسان کو ایمان سے خارج نہیں کرتا خواہ انسان اعمال ظاہری میں سست ہی کیوں نہ ہو۔لیکن بظاہر پابند شریعیت ہو کہ بارہ استکبار کرنے وال کبھی بھی مومن نہیں رہ سکتا۔یہ ایک نکتہ ہے کہ جس کے سمجھنے کی وجہ سے لوگ دھوکا کھاتے ہیں۔اکثر سوال ہوتا ہے کہ فلاں شخص تو بڑا نیک پارسا تھا۔عابد تھا۔زاہد تھا۔خادم دین تھا تیلیغ میں حصہ وافر لیتا تھا، وہ کیسے مرتد ہو گیا۔مگر وہ نہیں جانتے کہ ایسے بڑے کہلانے والے۔ایسے قربانیاں کرنے والے لوگ ، لوگوں کے نفسوں کا تو محاسبہ کرتے ہیں۔مگر اپنے نفس کے محاسبہ کا انہیں کبھی خیال تک بھی نہیں آتا۔وہ عبادت کرتے ہیں مگر اس لئے کہ عبادت کرتے کرتے ان کے اند را یک ذوق پیدا ہو جاتا ہے۔وہ زہد کرتے ہیں مگر اسی ذوق کی بناء پر۔ان کے قلب کا انجن ٹھیک نہیں ہوتا۔ان کے دل میں وہ ایمان اور وہ روح پیدا نہیں ہوئی ہوتی ہو حقیقت میں ہو۔اس کی مثال بعینہ کلاک کے پنڈولم، PEN DOLUM ، کی ہے جو موازنہ سے حرکت کرتا ہے۔ذراسی روک آئی اور تھم گیا۔اس روک کے مقابلہ کرنے والی قوت ان کے لوں میں پیدا نہیں ہوئی ہوتی۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی شاذ ہیں جو اس نکتہ کو سمجھے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔بہتر ہوتا کہ اگر وہ ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کی صفائی پر بھی زور دیتے۔اوران کے اندر یہ روح پیپ را ہو جاتی کہ جب جب کوئی حکم اللہ تعالے کی طرف سے ، اس کے رسولوں کی طرف سے یا اُن کے نواب و خلفاء کی طرف سے آتا ، وہ اس کے قبول کرنے اور بسر و چشم ماننے