خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 63

۶۳ کان میں آئی جو محض آواز ہی تھی۔سننے کے لئے کان لگائے۔پھر آواز آئی اس کو امداد کے لئے پکارا۔مگر وہ فرشتہ تھا جس نے اپنے پاؤں کی ایڑی سے یا اپنے پر سے ایک پتھر کو ٹھوکر لگائی۔اور وہاں سے چشمہ صافی رواں ہو گیا۔جس سے اپنے بچے کو پلایا در خود بھی پیا۔وہی چشمہ اب دنیا میں زمزم کے نام سے موسوم ہے لیے صفا اور مروہ کی سعی ایام حج میں سی عظیم الشان قربانی کی یادمیں قائم ہوئی ہے۔یہ قرانی کیا پھل لائی اور کیسی بار آور ہوئی۔دنیا جانتی ہے۔یہ قربانی تھی جسکی طرف اشارہ تھا ور یہی وہ قربانی ہے جو حضرت ہمعیل علیہ السلام کی اولاد کو بھی کرنا تھی پہلی کتابوں میں یونہی لکھا تھا کہ حضرت اسمعیل علیہ اسلام اور ان کی اولاد کے خلاف تمام دنیا کا ہا تھ اٹھے گا اور حضرت اسمعیل علیہ السلام اور ان کی اولاد کا ہاتھ تمام دنیا کے خلاف ہوگا۔چنانچہ پیدائش بابت ہمیں یوں بیان ہوا ہے۔اس کا ہاتہ سب کے خلاف اور سب کے اتھے اس کے خلاف ہوں گے۔اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بود و باش کرے گا نہ اور جس کا یہ حال ہو کہ تمام دنیا اس کے خلاف جمع ہو جائے اسے قربانی بھی بہت کرنی پڑہتی ہے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آپ کے حقیقی وارث حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی سب سے بڑی قربانی کرنی پڑی چنانچہ اسی مقام پر جہاں مت آئیں علیہ سلام کو ہجرت کرنی پڑی تھی۔اسی مقام پر آپ کا دانہ اور پانی روک دیا گیا۔حضرت اسمعیل من کا اور علیہ سلام تو ایسے وقت میں وہاں پہنچائے گئے تھے کہ وہاں دانہ پانی تھا نہیں مگر یہاں یہ حالت ہے کہ دانہ اور پانی تو موجود ہے مگر پہرہ مقرر کر دیا جاتا ہے کہ ان کو نہ دانہ پہنچے اور نہ پانی۔اور متواتر چھ سال تک یہی حالت رہتی ہے حتی کہ فاقوں کی وجہ سے لوگوں کے چہرے پہچاننے مشکل ہو گئے اور پھر یہ وہی قربانی کے ایام ہیں جن میں آپ کی نہایت پیاری بیوی حضرت فد نیجر رضی اللہ تعالیٰ عنہا انہی مشکلات مصائب اور مشقتوں میں فوت ہوئیں کیا حضرت اسمعیل علیہ السلام کے واسطے تو وہ مشکل چند روزہ تھی مگر یہاں متواتر چھ سال کا عرصہ انہی مشکلات میں بسر کرنا پڑتا ہے۔اور یہ بڑی قربانی آپ کو اس لئے کرنی پڑی کہ آپ ہی وہ نہیں تھے کہ جن کا ہاتھ تمام دنیا کے خلاف اور جن کے خلاف تمام تہان کھڑا ہونے والا تھا۔عیسائی کہتے ہیں کہ ان الفاظ تورات سے مراد ڈاکو ہیں۔مگر یہ ٹھیک نہیں۔ڈاکو بھی پھیلا کوئی حیثیت رکھتے ہیں جن کے خلاف تمام دنیا اور سارے جہان کو جمع ہونے کی ضرورت پیش آوئے بڑے بڑے ڈاکو دنیا میں پیدا ہوئے اور پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ آخر ان کا کیا انجام ہوا تھوڑے