خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 401

شہاب الدین صاحب سم در دشتی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں ستحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں۔وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں تا کہ میں ان سے ایسے طریق پہ کام نوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کر سکیں۔وہ مجھ سے ہدایتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں۔ہمارا ملاک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے۔اور آج بھی اس میں چشتیوں کی ضرورت ہے سہر وردیوں کی ضرورت ہے نقشبندیوں کی ندرت ہے اگر یہ لوگ آگے نہ آئے اور حضرت عین الدین صاحب پشتی حضرت شہاب الدین صاحب سهروردی ، در حضرت فرید الدین صاحب کر گئی جیسے لوگ را نہ ہوتے تو یہ ملک رومانیت کے لحاظ سے اور بھی ویران ہو جائے گا۔بلکہ یہ اس سے بھی زیادہ ویران ہو جائیگا جتنا مکہ مکرمہ کسی زمانہ میں آبادی کے لحاظ سے ویران تھا۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں وہ صدر انجین احمد یہ یا تحریک جدید کے ملازم نہ ہوں۔جبکہ اپنے گزارہ کے لئے وہ طریق اختیار کریں جوئیں انہیں بناؤں گا اور اس طرح آہستہ آہستہ دنیا میں نئی آبادیاں قائم کریں۔اور طریق آبادی کا یہ ہوگا کہ وہ حقیقی طور پر تو نہیں ہاں معنوی طور پر ربوہ اور قدیان کی محبت اپنے دل سے نکال دیں اور باہر جا کرتے رہو سے اور نئے قادیان بسائیں۔ابھی اس ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں میلوں میل تک کوئی بڑا قصبہ نہیں وہ جا کر کسی ایسی جگہ مجھے جائیں اور حسب ہدایت و ہاں تبلیغ بھی کریں اور لوگوں کو تعلیم بھی دیں۔لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث پڑھائیں اور اپنے شاگرد تیار کریں جو آگے اور جگہوں پر پھیل جائیں۔اس طرح سارے ملک میں وہ زمانہ دوبارہ آجائیگا جو پرانے صوفیاء کے زمانہ میں تھا۔دیکھو ہمت والے لوگوں نے پچھلے زمانہ میں بھی کوئی کمی نہیں کی۔یہ دیوبند جو ہے یہ ایسے ہی لوگوں کا قائم کیا ہوا ہے۔مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے حضرت سید احمد صاحب بریلوی کی ہدایت کے ماتحت یہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔اور آج سارا ہندوستان ان کے علم سے منور ہورہا ہے۔حالانکہ وہ زمانہ حضرت معین الدین صاحب چشتی کے زمانہ سے کئی سوسال بعد کا عقابیس کن پھر بھی روحانی لحاظ سے وہ اس سے کم نہیں تھا جب کہ ان کے زمانہ میں السلام هندوستان میں ایک مسافر کی شکل میں تھا۔اس زمانہ میں بھی وہ ہندوستان میں ایک مسافر کی شکل میں ہی تھا حضرت سید احمد صاحب بریلوی نے اپنے شاگردوں کو ملک کے مختلف حصوں میں بھجوایا جن میں سے ایک ندوہ کی طرف بھی آیا پھر ان کے ساتھ اور لوگ مل گئے اور ان رہنے اس ملک میں دین اور اسلام کی بنیادیں مضبوط کیں۔اب چاہے ان کی اولا د خراب ہو گئی ہے۔دارالعلوم دیوبند مراد ہے جو وہ نامحمدقاسم نانوتوی کے نام پر قاسم العلوم کہلاتا ہے اس سے کے اصل محرک مولوی فضل الرحمن سنا اور او اور اسائندہ تھے بعد میں مولانا نانوتوی کی سر پرستی میں اسے بہت فروغ حاصل بود موج کوثر ۲۰ مطبوعہ فیروز سنز لاہور نشده