خطبات محمود (جلد 2) — Page 306
۳۷ د فرموده ۱۴ اکتو برش ها و مقام منٹو پارک لاہو) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق تھا کہ عیدالاضحیہ کے موقع پر آپ نماز کے بعد اس قربانی کے گوشت سے جو آپ پیش کرتے تھے ناشتہ فرماتے تھے نے اس لئے عید الاضحیہ کا خطبہ الفطر کی نسبت مختصر کیا جاتا ہے۔تا کہ جو لوگ اس سنت اور تعامل کی اتباع کرنا چاہیں وہ اس پر ٹیل کر سکیں۔گوشہروں میں یہ بات آجکل نا ممکن ہو گئی ہے بوجہ اس کے کہ قربانیاں قریب میں نہیں کی جاسکتیں۔دوسرے اتنے بڑے بڑے شہر بن گئے ہیں کہ باہر جا کر نماز پڑھنے اور پھر واپس آنے میں ہی بارہ ایک بج جاتے ہیں۔یه حمید جو عید الاضحیہ کہلاتی ہے یعنی قربانیوں کی عید کس طرح شروع ہوئی اور کسی واقعہ کی یاد میں مقرر ہوتی۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہمیشہ مسلمانوں میں بیان ہوتا چلا آیا ہے اور قریبا ت مر تعلیم یافتہ لوگ اس سے واقف ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی ایک رڈیا کی بناء پر ایک ارشاد الہی کی بناء پر۔اور خدا نے ان کے اس فعل کو پسند فرما کر حکم دیا کہ تم بکرے کی قربانی کرو۔بیٹے کی قربانی نہ کر وسیہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں که حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اللہ تعالے کی طرف سے جو یہ دکھائی دیا تھا کہ اپنے بیٹے کو قربان کر رہے ہیں اس کی کیا تعبیر تھی۔یہیں بارہا بتا چکا ہوں کہ بیٹے کی قربانی کا میطلب نہیں تھا کہ چھری لے کر اپنے بیٹے کو ذبح کر دو بلکہ مطلب یہ تھا کہ دین کی خدمت کے لئے اپنے اور بیٹے کو وقف کر دو۔دنیوی ترقیات کے رستہ کو چھوڑ دینا۔دنیوی تر توں پر لات مار دیا دنیوی کامیابیوں کے حصول کے تمام ذرائع کو نظر انداز کر دنیا ایک بہت بڑی موت ہوتی ہے جو بسا اوقات دوسری موت سے زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ دوسری موت کو تو قبول کر لیتے ہیں لیکن اس موت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔کیونکہ اس میں احساس اذیت بہت لمبا ہوتا ہے اور ایک لمبے عرصہ تک انسان کو تکالیف میں مبتلا رہنا پڑتا ہے۔بہر حال حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس زمانہ کے لحاظ سے خدا تعالے کے حکم اور ارشاد کو جس رنگ میں سمجھا اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔اس زمانہ میں چونکہ عام طور پر انسانوں کی قربانیاں کی جاتی تھیں اس لئے وہ بھی اپنے بچے کو ظاہری ننگ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے لیکن اللہ تعالے کا منشاء یہ تھا کہ وہ انسانی قربانی کسی نبی کے ذریعہ سے روک دے۔اور