خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 22

۲۲ اپنے مطلب کے دوست اور رشتہ دار تھے لیکن ان کی بجائے جو خدا تعالیٰ نے دیئے وہ کسر بات کی تمنا رکھتے تھے کہ ہم سے حضرت صاحب کوئی خدمت میں ہے تا کہ اس طرح ہمارا بیڑا پار ہو جائے۔تو ہر رنگ میں خدا تعالے نے آپ کو آپ کی قربانی کا بہت بڑھ چڑھ کر بدلہ دیا۔ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ساری دنیا آپ کے قدموں میں آگرے کیونکہ ابھی ابتدائی زمانہ ہے۔مگر کہتے ہیں اس ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔تمام مذاہب والے اس بات کو قبول کر رہے ہیں کہ اگر دنیا میں کوئی ایسا پوداہے جس سے ڈرنا چاہیئے تو وہ وہی ہے جو مرزا صاحب بنے لگایا ہے۔اس کے ہوتے ہوئے ہمارے درخت نہیں بڑھ سکتے۔جہاں ایک قوی درخت ہو، وہاں اور کوئی درخت پھل پھول نہیں سکتا اور نہ ہی بڑھ سکتا ہے۔اسی طرح تمام مذاہب والے کہتے ہیں کہ گو یہ پودا ہی ہے مگر اس کے مقابلہ میں ہمارے درخت بھی نہیں بڑھ سکتے بلکہ سو کچھ رہے ہیں۔حضرت صاحب کتنے کہ نیسائی مشنری اور ان کی عورتیں یہاں قادیان میں آیا کرتی تھیں لے لیکن اب دیکھ لو کہ قادیان کے نام تک سے وہ کا نچتے ہیں۔اور کئی کئی میل دور سے گزر جاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایسا زبر دست پودا ہے کہ جہاں یہ ہو وہاں بہار اُگانے سے کچھ نہیں اہل سکتا۔ہمارے پو دے اسی وقت تک اُگ سکتے ہیں جبکہ اس سے دور ہی ہوں ، اس لئے اس سے دُور دُور ہی رہتے ہیں۔لیکن خدا کے فضل سے یہ پودا دیا بھی پہنچ جاتا ہے، اس لئے پھر وہاں سے انہیں بھاگنا پڑتا ہے۔پاک درخت کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اَصْلَهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاں نے اس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور اس کا پھیلاؤ آسمان تک ہوتا ہے۔یہی بات ہم نے اس شہر کے متعلق دیکھ لی ہے اور ہم نے تجربہ کر لیا ہے کہ اس کی موجودگی میں دوسروں کی کھیتیاں نہیں اگتیں اور اگر اگتی ہیں تو خشک ہو جاتی ہیں۔گو اس وقت ہماری جماعت کمزور ہے مگر آثارہ بتا رہے ہیں کہ اس کے مقابلہ ہیں باقی تمام پودے مرجھا رہے ہیں۔اور ایک دن آئے گا جبکہ بالکل خشک ہو جا ئیں گے اور سایہ کن درخت صرف یہی ہوگا۔ہمارے سامنے یہ نظیر موجود ہے۔غیر اگر ہے تو جی کریں تو کریں مگر وہ جو اس خدا کے مامور اور بنی پر ایمان لائے اور جہنوں نے اس کی محبت کی اور سب کچھ دیکھا۔ان میں سے اگر کوئی اس طرح نا امیدی ظاہر کرے کہ اگر ہمیں خدا کے لئے خرچ کروں گا تو ضائع ہو جائے گا۔وہ بہت ہی قابل افسوس ہے۔اسے یادرکھنا چاہیئے کہ خدا تعالے کے لئے دی ہوئی چیز نہ کبھی پہلے صنائع ہوئی ہے اور نہ اب ہو سکتی ہے تم نے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ دیکھ لیا ہے۔پھر اپنے اپنے گاؤں میں دیکھ لو کہ جنہوں نے اس سلسلہ کے لئے بچھی قربانیاں کی ہیں انہیں کیا کچھ