خطبات محمود (جلد 2) — Page 267
ان کا ہاتھ پکڑا۔خانہ کعبہ میں لے گیا۔اور وہاں جا کر اعلان کر دیا کہ اسے لوگو سُن لو عثمان بن مطعون میری حفاظت میں ہے اگر اس کو کسی نے کچھ کہا تو اس نے اسے نہیں بلکہ مجھے کہا۔عربوں میں اس بات کا بڑا لحاظ کیا جاتا تھا کہ جس شخص کا ادب اور احترام ان کے دلوں میں ہوتا تھا وہ جس کو بھی اپنی پناہ میں لے لیتا اسے کوئی شخص کا نہیں سکتا تھا۔عثمان بن مظعون بھی کھلے بندوں مکہ میں پھرنے لگے اور شخص انہیں جھڑ نہیں سکتا تھا۔مگر ایک دن جب وہ باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ بعض مسلمانوں کو لوگ مار رہے ہیں اور بعض غلاموں کو دیکھا کہ لوگ ان کو گلیوں میں گھسیٹ رہے ہیں۔ان کے مومنوں پرپھوک رہے ہیں اور انہیں کوڑے لگا رہے ہیں۔یہ نظارہ دیکھکر ان سے برداشت نہ ہو سکا۔وہ واپس آئے اور جس رئیس نے انہیں پناہ دی تھی اس سے آکر کہنے لگے کہ آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا تھا ہو مجھے مجھے پناہ دی۔اور مکہ والوں کے ظلموں سے مجھے سچا یا۔مگر آج میں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو اس طرح ظلم کا نشانہ بنتے دیکھا ہے کہ مجھ سے یہ بے غیرتی اور بے حیائی برداشت نہیں ہو سکتی کر ان کو تو مانیں پڑیں اور مجھے نہ پڑیں۔مکی آپ کا اعلان واپس کرنے کیلئے آیا ہوں۔اس نے کہا چیے ! سوچ لو۔انہوں نے کہا مین نے خوب سوچ لیا ہے۔چنانچہ اس نے اعلان کر دیا کہ نہیں نے عثمان بن مطعون کو جو پناہ دی ہوئی تھی وہ واپس لیتا ہوں۔تھوڑے دنوں کے بعد حج کا موقعہ آیا اور عرب کے مشہور شاعر بعید جو بعد میں اسلام لے آئے تھے اور جو ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہوئے وہ حج کے دنوں میں مکہ میں آئے اور انہوں نے اپنے شعر سنائے۔تمام روسا جمع تھے مجلس لگی ہوئی تھی اور سب تعریفیں کر رہے تھے کہ اشعار سناتے سناتے انہوں نے یہ صرفہ تھے لگی اور سب کر رہی ہے کہ کے پڑھا شند خدا کے سوا ہر سپیز فنا ہونے والی ہے۔عربوں کو زبان کا چسکا تو پڑا ہی ہو اتھا۔صحابہ بھی اس سے متاثر تھے اور وہ ایسے موقعوں پر ہمیشہ داد دیا کرتے تھے عثمان بن مظعون اس وقت مجلس میں موجود تھے جب اس نے کہا۔الا كل شي و ما خلا الله باطل سنو ہر چیز خدا کے سو افنا ہونے والی ہے تو عثمان بن مظعون نے کہا۔سچ کہا سچ کہا وہ اپنے آپ کو اتنا بڑا آدمی سمجھتا تھا کہ سوائے بڑے بڑے ادبیوں اور رؤساء کے اپنے اشعار کی کسی سے تعریف سننا بھی اپنی ہتک سمجھتا تھا اس نے جب سنا کہ ایک لڑکے نے اس کا مصرعہ سُن کر کہا ہے کہ سچ کہا سچ کہا تو اس نے وہیں شعر پڑھنے بند کر دیئے اور مکہ والوں سے کہا کیا تم میں اب کہ بی شریف آدمی نہیں رہا۔یہ کل کا چھو کر مجھے داد دیتا ہے۔کیا میں اس کی داد کا محتاج ہوں اگر یہ کہے گا کہ میں نے