خطبات محمود (جلد 2) — Page 17
14 نہ سمجھتے تھے تو سہی لیکن ہر ایک مومن مرد اور عورت کے لئے حضرت ہاجرہ کی مثال موجود ہے کہ وہ نبی نہ تھی۔ایک عورت تھی اور کمزور دل عورت تھی لیکن اسے ایک ایسے جنگل میں چھوڑ جاتا ہے جو بالکل ویران اور بغیر آباد ہے۔پھر اس کے لئے موقعہ ہے کہ اپنا بچاؤ کر ہے۔مگر جب اس نے سنا کہ یہ خدا تعالے کے حکم کے ماتحت کیا گیا ہے تو کہا کہ ہم نہیں رہیں گے۔خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔میں نے حج کے موقعہ پر بڑے بڑے جسیم اور موٹے تازے مردوں کو اس لئے روتے دیکھنا ہے کہ ان سے ان کے ساتھی جدا ہو گئے حالانکہ اگر ساتھی جدا ہو گئے تو کیا ملکہ ایک شہر ہے کوئی دیران جنگل نہیں۔رستے بنے ہوئے ہیں، ہر قسم کا انتظام موجود ہے، مگر با وجود اس کے میں نے ساتھیوں کے جدا ہو جانے کی وجہ سے کئی ایک مردوں کو روتے اور چلاتے دیکھا ہے۔لیکن دیکھو ہاجرہ عورت ہو کو ایک ایسے جنگل میں رہتی ہے جس میں کھیتی تک نہیں ہوتی اور پانی کا ایک قطرہ تک نہیں مل سکتا۔کوئی آبادی نہیں، کوئی خبر گیراں نہیں، کوئی محافظ نہیں لیکن جب اُسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مجھے خدا کے جسم کے ماتحت یہاں چھوڑا گیا ہے تو کہتی ہے کہ خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔یہ کامل ایمان کی علامت ہے۔جب تک کسی میں ایسا ہی ایمان نہ ہو اس وقت تک وہ مومن نہیں کہلا سکتا اور جس میں ایسا ہی ایمان نہ ہو وہ یہ امید کیونکر رکھ سکتا ہے کہ خدا مجھے صنائع نہیں کرے گا۔اس وقت خدا تعالے نے ہماری جماعت سے بھی ایسا ہی ایک معاملہ کیا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی ایک قربانی کرنی پڑتی ہے۔ان سے عہد لیا جاتا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے لیکن افسوس سے دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہماری بڑی ضروریات ہیں ہم مدین کے لئے کہاں سے خرچ کریں۔حالانکہ وہ نہیں دیکھتے کہ حضرت ہاجرہ سے زیادہ قربانی تو ان سے نہیں کرائی جاتی۔اس کی قربانی کو دیکھیں اور پھر اپنی قربانی پر نظر کریں اور پھر حضرت ہاجرہ کے ایمان کو دیکھیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ہاجرہ سے ابھی بہت پیچھے ہیں۔حالانکہ یہ مرد ہیں اور دہ عورت تھی۔پھر عورتیں بھی اس سے بہت پیچھے ہیں۔حالانکہ ہاجرہ بھی انہیں کی طرح کی ایک عورت تھی اور اسی آدم کی اولاد تھی جس کی ہم سب ہیں مگر جس ایمان کو اس نے ظاہر کیا وہ نام مردوں عورتوں کے لئے قابل رشک ہے۔مگر افسوس ہے کہ کئی لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اگر دین کے لئے خرچ کرنے کو کہا جائے تو آگے سے کئی قسم کی مجبوریاں پیش کر دیتے ہیں اور کئی قسم کے عذرات گھڑ لیتے ہیں حالانکہ ہر ایک عید انہیں بتاتی ہے کہ خدا کے لئے جو قربانی کی جاتی ہے وہ کبھی ضائع نہیں جاتی۔آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں پیشیش کی جا سکتی کہ خدا کے لئے کسی نے کوئی قربانی کی ہو اور اس کا نتیجہ اس کے حق میں عمدہ نہ نکلا ہو۔بلکہ میں کسی نے بھی خدا کے لئے قربانی کی ہے اس کے لئے خدا تعا نے نے ملائکہ مقرر کر دیئے ہیں کہ اس کی