خطبات محمود (جلد 2) — Page 204
۲۰۴ پھر آپ نے فرمایا اللہ اکبر۔اور سب صحابہ نے ساتھ ہی کہا اللہ اکبر۔پھر آپ نے تیسری دفعہ کرالی اٹھائی اور اپنے پورے زور سے کدال پتھر پر ماری اور پھر اس میں سے ایک شعلہ نکلا اور پھر آپ نے فرمایا اللہ اکبر اور صحابہ نے بھی اسی طرح زور سے آواز دی اللہ اکبر۔اس تیسری ضرب سے وہ پتھر ٹوٹ گیا اور صحابہ نے خندق کو مکمل کر لیا۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ سے دریافت کیا کہ تم نے تین دفعہ تکبیر کے نعرے مارے ہیں ، تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں کہا۔یارسول للہ ! ہم آپ کی نقل کی۔آپ نے بھی تین دفعہ اللہ اکبر کہا تھا ، سو ہم نے بھی آپ کی نقل میں تین دفعہ جبیر کے نعرے لگائے۔آپ نے فرمایا کیا تم کو معلوم ہے کہ میں نے تیر کیوں کہی تھی۔صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا جب میں نے پہلی دفعہ کدال ماری اور اس پتھر میں سے آگ کا شعلہ نکلا تو میں نے اس شعلہ میں یہ نظارہ دیکھا کہ اسلامی فوجوں کے سامنے رونا کی حکومت کی فوجیں تہ و بالا کر دی گئیں۔اور یکس نے اس موقعہ کے مناسب حال اللہ اکبر کہا۔پھر جب میں نے دوسری دفعہ کدال ماری اور نتھر کی چٹان میں سے آگ کا شعلہ نکلا تو مجھے یہ نظارہ دکھایا گیا کہ اسلامی سطوت کے سامنے کرائے ایران کے قصر یہ زلزلہ آگیا ہے اور اس کی شرکت توڑ دی گئی ہے۔تب میں نے اس کے مناسب حال تکبیر کا نعرہ بلند کیا۔اور جب میں نے تیسری دفعہ کدال پتھر پر ماری اور پھر اس میں سے ایک شعلہ نکلا تو مجھے یہ نظارہ دکھایا گیا کہ تمیز کی طاقت اور قوت اسلام کے مقابلہ میں برباد کر دی گئی۔تب پھر میں نے خدائی بڑائی بیان کی اور تکبیر کا نعرہ لگا یا صحابیہ یہ ہے قو نے کہا۔یا رسول اللہ ! پھر جس بات پر آپ نے تکبیر کسی ہم نے بھی تکبیر کی تیلیہ اس مثال سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ اسلامی آداب نہیں کہ جب کوئی خدا کا ملال ظاہر ہو تو مومن اس پر مبند آواز سے اللہ اکبر کہتا ہے۔سوسم عید کی نماز میں جو بہت سی تکبیریں کرتے ہیں بلکہ ایام تشریق میں برا ہر تکبیر بلند کرتے رہتے ہیں تو گویا ابراہیم کی قربانی کے لئے اپنے جذبات استحسان کا ہدیہ پیش کرتے ہیں۔اور اپنے مونہوں سے اقرارہ کرتے ہیں کہ ہم نے ابراہیمیہ کی قربانی میں خدا کی شوکت اور اس کے جلال کو دیکھا مگر کیا یہ ہمارے لئے افسوس کی بات نہیں کہ ہم ابراہیمیہ میں تو خدا کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم اپنے نفس میں خدا کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ہم ابراہیمیہ کے ایک تحسن فعل پر تو اللہ اکبر کہتے ہیں مگر ہمارے دل میں یہ تڑپ پیدا نہیں ہوتی کہ ہم سے بھی کچھ ایسے افعال ظاہر ہوں کہ جنہیں دیکھ کر خدا کے بندے بیتاب ہو کر تکبیر بلند کریں۔اور زمین اور آسمان اسی طرح ہمارے افعال کی وجہ سے خدا کی بڑائی سے گونج جائیں جس طرح قانون قدرت کے ذریعہ سے وہ تسبیح کے ساتھ کو سج رہے ہیں۔اور یہ کوئی